مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ’ننھے اسپورٹس مبصر‘ مقابلے کا اہتمام قطر کے اسپورٹس ٹی وی ’’ج‘‘ کے زیراہتمام کیا گیا جس میں عرب ممالک کے 700 کم عمراسپورٹس تبصرہ نگاروں نے شرکت کی۔ ان میں غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے رفح کے مومن احمد زعرب بھی شامل تھے۔ مقابلے میں اول پوزیشن حاصل کرنے پر’’ج‘‘ ٹی وی کی جانب سے اسے 10 ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا۔
مقابلے کے بعد ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جب اسے پوچھا گیا کہ آپ نے اتنی کم عمری میں اسپورٹس کے میدان میں کمنٹری کی ایسی صلاحیت کیسے حاصل کرلی تھی تو اس کا کہنا تھا کہ میں کھیلوں میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتا ہوں اور کھیل کے مقابلوں کی کمنٹری نہایت توجہ کے ساتھ سنتا رہاں۔ اس کے علاوہ اپنے خاندان اور دیگراحباب سے بھی کھیلوں کے حوالے سے گفتگو کرتا رہتاہوں، اس طرح کھیلوں پر کمنٹری کی میری صلاحیت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔
ٹی وی رپورٹ کے مطابق کھیلوں کے مقابلوں پر کم عمر 700 تبصرہ نگاروں کے درمیان مقابلہ تھا جن میں سے 10 کو آخری مقابلے کے لیے فائنل کیا گیا۔ ان میں غزہ کے مومن محمد زعرب بھی شامل تھے، جو مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے ’کم عمر عرب کمنٹیٹر‘ کا ایوارڈ اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے۔
ننھے اسپورٹس تبصرہ نگار نے کہا کہ اسپورٹس کمنٹری کے میدان میں وہ معروف عرب تبصرہ نگاروعں رئوف خلیف، حفیظ دراجی اور عصام شوالی سے بہت زیادہ متاثر ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
