اسرائیلی حکومت نے فیصلہ کیا کہ سن 1967ء سے اپنے زیرتسلط مشرقی القدس کو شمال اور مشرق کی جانب سے مغربی کنارے سے مکمل طور پر الگ کرنے کے لیے نسلی دیوار
کی تعمیر جلد مکمل کی جائیگی۔ القدس کی شمال مشرقی عناتاچیک پوسٹ پر ڈیوٹی دینے والے اسرائیلی اہلکاروں نے ہفتہ کے روز گزرنے والے اہالیان القدس کو پیغام دیا کہ یہ اس چیک پوسٹ سے گزرنے کا ان کا آخری دن ہے۔ اس حصے کو آمد و رفت کے لیے بند کرنے سے القدس مشرق اور شمال کی جانب سے مغربی کنارے کے دیگر تمام شہروں سے الگ ہو جائے گا۔ اسی طرح القدسکا عناتا ٹاؤن، راس خمیس، راس شحادہ، الرام، ضاحیہ، کفر عقب اور سمیرامیس بھیالقدس سے الگ ہو جائیں گی۔ ایک اندازے کے مطابق اس علاقے میں ستر ہزار سے ایک لاک ھلوگ آباد ہیں جو القدس شہر پہنچنے کے لیے اس چیک پوسٹ کو استعمال کرتے ہیں۔ اسرائیلی حکام اس سے قبل القدس کو جنوب کی جانب بیت لحم سے بھی جدا کر چکے ہیں۔ اب اگلےمرحلے میں القدس کی مغربی جانب نسلی دیوار کی تعمیر شروع کی جائیگی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
