مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق ابتدائی طورپر اسرائیلی بائیکاٹ کےلیے قائم کی گئی ویب سائیٹ کو نارویجن اور انگریزی زبانوں کی سروسز فراہم کی گئی ہیں۔ جلد ہی دوسری زبانوں میں بھی ویب سائیٹس کھولی جائیں گی۔
ویب سائیٹ پراسرائیل کےفلسطینیوں کے خلاف جاری مظالم کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی مقبوضہ عرب علاقوں میں تیار کردہ مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جائے گی۔ انگریزی اور نارویجن زبانوں میں فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کو خاص طورپر آشکار کیاجائے گا۔
اس کے علاوہ ویب سائیٹ پرپوری دنیا میں اسرائیل کے ثقافتی، سیاسی، تجارتی، سفارتی، تعلیمی اور اقتصادی بائیکاٹ کے لیے ہونے والی مساعی کو بھی پیش کیا جائے گا تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ صہیونی ریاست کے بائیکاٹ پرقائل کیا جاسکے۔
ویب سائیٹ قائم کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بائیکاٹ کی آن لائن سروسز کی فراہمی کا مقصد فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کواجاگر کرنا، اسرائیل کے فلسطینی علاقوں پر ناجائز تسلط، سنہ 1967 ء کے عرب علاقوں میں دیوار فاصل کی تعمیر اور اس کے فلسطینیوں پرمنفی اثرات کو عالمی سطح پر اٹھانا اور سنہ 1948 ء کے دوران اسرائیلی ریاست کا حصہ بننے والے علاقوں میں مقیم فلسطینیوں کے ساتھ جاری نسلی امتیاز کو اجاگر کرنا ہے۔
ویب سائیٹ کے ذریعے فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی کی حمایت، پناہ گزینوں کی اپنی وطن میں دوبارہ آباد کاری اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 194 پرعمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے آواز اٹھانا ہے۔
خیال رہے کہ پچھلے ایک سال سے یورپی ملکوں میں اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی کئی کامیاب مہمات جاری ہیں جس کے نتیجے میں اسرائیل کو سالانہ آٹھ ارب ڈالر کانقصان اٹھانا پڑا ہے۔ رواں سال اسرائیل کی پولٹری انڈسٹری اور لائیو اسٹاک بھی پابندیوں کی زد میں ہیں جس کے نتیجے میں صہیونی ریاست کو مزید 20 ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
