• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 5 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

مقبوضہ بیت المقدس میں پانی کی زمین دوز تاریخی نالیاں تلمودی راستوں میں تبدیل

جمعرات 04-09-2014
in فلسطین
0
plf historical
0
SHARES
2
VIEWS

فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس شہر کی تاریخی اسلامی اور عرب شناخت کو مٹانے کی صہیونی سازشیں ہمہ جہت پہلووں سے مسلسل جاری ہیں۔ مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم "اقصیٰ فاونڈیشن وٹرسٹ” نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بیت المقدس میں پانی کی نکاسی کے لیے استعمال کی جانے والی تاریخی زمین دوز نالیوں کو یہودی حکومت نے زیرزمین سرنگوں اور تلمودی راستوں کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اقصیٰ فاونڈیشن کی جانب سے جاری ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی وزارت داخلہ کے ذیلی ادارے” نیچرل پارکس اتھارٹی” اور یہودی توسیع پسندی میں ملوث تنظیم "العاد” نے کئی سال سے بیت المقدس میں‌ موجود تاریخی زمین دوز نالیوں کو یہودی آباد کاروں کی راہ داریوں کے طور پر استعمال کرنے کا کام شروع کیا تھا۔ یہ نالیاں قدیم کنعانی دور اور بعد ازاں مسلمانوں خلفاء کے ادوار میں بیت المقدس میں ‌پانی کی نکاسی کے لیے استعمال کی جاتی رہیں۔

اقصیٰ فاونڈیشن کا کہنا ہے کہ صہیونی حکام یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ غاریں دراصل عبرانی تاریخ کا ایک جزو ہیں اور کسی زمانے میں زمین دوز راستے ہوا کرتے تھے، اس لیے اب انہیں دوبارہ تلمودی/توراتی راہ داریوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ ان میں بیشتر زمین دوز راہ داریاں مسجد اقصیٰ کے جنوبی قصبہ سلوان میں پائی جاتی ہیں۔ اسی علاقے میں اسرائیلی حکومت نے زمین دوز سرنگیں کھود رکھی ہیں۔ یہ سرنگیں بھی درحقیقت بیت المقدس کی اسلامی تاریخ کو مٹانے کی ایک سازش ہیں۔ ایک سرنگ کی لمبائی 1000 میٹر سے بھی زیادہ ہے۔ یہ سرنگ سلوان کی چوٹی سے شروع ہوتی ہے۔ عین ام دراج سے ہوتے ہوئے شمال میں عین الفوقا سے گذر کر دوبارہ مسجد اقصیٰ کے قریب عین سلوان میں جا کر ختم ہوتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی ریاست نے مسجد اقصیٰ کے قرب و جوار میں ان سرنگوں کی کھدائی کا آغاز سنہ 1978ء میں کیا تھا۔

اقصیٰ فاونڈیشن کا کہنا ہے کہ صہیونی حکومت اور اس کے تمام ریاستی ادارے جھوٹے اور غلط دعووں کی بنیاد پر قبلہ اول کے گردو پیش اور پورے بیت المقدس میں یہودی اور عبرانی تاریخ وثقافت ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جن غاروں کو قدیم عبرانی راستے بتایا جا رہا ہے تاریخ گواہ ہے کہ وہ ہر دور میں پانی کی نکاسی کے لیے استعمال کی جاتی رہیں۔ صدیوں سے پانی کی گذرگاہ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ سرنگیں لوگوں کے گذرنے کے لیے بنائی گئی تھیں۔ تاہم اب اسرائیلی انتظامیہ نے ان سرنگوں کو مزید کھلا کردیا ہے جو اب راستوں کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس بالخصوص مسجد اقصیٰ کے قرب و جوار کے علاقے تاریخی اعتبار سے چشموں کی سرزمین مشہور رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر چشمے اب خشک ہوچکے ہیں لیکن ان کے ناموں سے موسم جگہیں آج بھی موجود ہیں۔ جس سے ان چشموں کے پانی کی گذرگاہوں کے بارے یقین ہوتا ہے کہ یہ نالیاں پانی کی گذرگاہوں کے طور پر استعمال کی جاتی رہیں۔ سب سے پہلے یہ نالیاں کنعانی دور میں بنائی گئیں۔ اس کے بعد 3000 قبل مسیح میں یبوسیوں نے بھی انہیں پانی کی گذرگاہوں کے لیے استعمال کیا۔ مسلمانوں کے ادروار میں‌ بھی یہ نالیاں پانی کی گذگاہوں ہی کے طور پر استعمال کی جاتی رہی ہیں۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.