اسرائیلی پولیس نے منگل کی شام کو اسلامی تحریک کے نائب سربراہ شیخ کمال الخطیب اور شیخ علی ابو شیخہ کو تفتیش کے لئے طلب کرنے کے بعد حراست میں لے لیا۔
اسرائیلی پولیس اور خفیہ ایجنسی نے دونوں شیوخ کو مسجد اقصٰی میں تصادم شروع کرنے اور امن عامہ کو خراب کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ دونوں شیوخ حضرات کو بدھ کی صبح مقبوضہ بیت المقدس میں مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہونا پڑے گا تاکہ ان کے خلاف مقدمے کی سماعت ہوسکے۔
اسلامی تحریک کے ترجمان اور وکیل زاھی نجیدات نے بتایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے شیوخ پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں اور انہوں نے الزام لگایا کہ قابض صیہونی حکام مسجد اقصٰی کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی نامور شخصیات کو مسجد کی حدود سے دور رکھنا چاہ رہی ہے تاکہ مسجد کو تقسیم کرنے کے صیہونی منصوبے کا بغیر کسی رکاوٹ کے پورا کیا جاسکے۔
اسی دوران ایک اور واقعہ میں قابض اسرائیلی فوج نے صیہونی تہوار "عید العرش” کی قریب آنے پر مسجد اقصٰی میں آنے والے فلسطینی نمازیوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔
اقصٰی فائونڈیشن برائے اوقاف و ورثہ کے مطابق اسرائیلی فوج نے مسجد کے کچھ دروازے بند کردئیے ہیں اور 45 سال سے کم عمر فلسطینیوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
