مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق پانی کے عالم دن کی مناسبت سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مغربی کنارے کے پہاڑی علاقوں میں موجود پانی کے چشموں اور دیگر ذخائر فلسطینیوں اور یہودی مساوی طریقے سے استفادہ نہیں کررہے ہیں۔ بیشترآبی وسائل پر یہودی آباد کار قابض ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مغربی کنارے کے یہودی آباد کار اوسطاً فلسطینی شہریوں سے سات گنا زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں۔ پانی کے وسائل پر یہودی آباد کاروں کے قبضے کے باعث فلسطینی آبادی سخت پریشان ہے اور سنگین مشکلات کا سامنا کررہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2013 ء میں کیے گئے ایک سروے میں بتایا گیا تھا کہ فلسطین میں مجموعی طورپر 48.8 خاندان صاف پانی استعمال کرتے ہیں۔ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں پانی کے وسائل کی تقسیم کے تناسب میں غیرمعمولی فرق پایا جاتا ہے۔ مغربی کنارے کے 73.5 فی صد خاندانوں کو صاف پانی میسر نہیں جب کہ غزہ کی پٹی میں یہ شرح 5.8 فی صد ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پانی کے دیگر مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بحر مردار کے کھارے پانی کا بھی ہے جو فلسطینی علاقوں میں زیرزمین پائے جانے والے میٹھے پانی میں سرایت کرکے اسے بھی خراب کررہا ہے۔ اس پر ستم یہ ہے کہ علاقائی سطح پر پانی کی تقسیم کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش بھی نہیں کی جا رہ ہے اور نہ ہی فلسطینی اتھارٹی اس معاملے میں کوئی اہم قدم اٹھا سکی ہے۔ سنہ 1967 ء کے بعد مغربی کنارے کے عوام دریائے اردن کے پانی کے حصے سے بھی محروم ہیں۔ جونسٹن پلان کے تحت فلسطینیوں کو دریائے اردن کے پانی سے 250 ملین میٹر مکعب پانی کا حق دیا جا چکا ہے۔ مگر فلسطینی اس کے باوجود محروم ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
