دینا بھر سے مراعات کے لالچ میں فلسطین کے مختلف شہروں کی مقبوضہ اراضی میں لا کر بسائے گئے یہودی مقامی فلسطینی آبادی کے لیے مسلسل سوہان روح بنے ہوئے ہیں۔ مقامی شہریوں پر انتہا پسند یہودی آباد کاروں کا تشدد روز کا معمول بن چکا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مغربی کنارے کے شہر نابلس میں ‘یٹسھار’ یہودی بستی کے رہائشی انتہا پسندوں نے صہیونی فوج کی موجودگی میں فلسطینیوں پر تشدد کیا جس کے نتیجے میں ایک خاتون زخمی ہو گئی۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ ایک ڈنڈہ بردار یہودی گروپ نے عین بوس قصبے میں ایک فلسطینی شہری کے گھر پر رات گئے دھاوا بولا۔ اہل خانہ کو زد و کوب کرنے کی کوشش پر مزاحمت کرنے والی ایک خاتون خانہ پر حملہ آور صہیوںیوں نے لاٹھیاں برسائیں جس کے نتیجے میں انہیں سخت زخم آئے۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ 20 انتہا پسند یہودیوں نے یٹھسار صہینونی بستی کے قریب فلسطینی شہری حمدان احمد محمود حسین کے مکان پر دھاوا بولا۔ یہودیوں کے پتھراؤ سے مکان کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ حملہ آوروں نے گھر میں گھس کر پچیس سالہ خاتون لیالی عودہ پر تشدد کیا جنہیں بعد ازاں اہل محلہ نے رفیدیا اسپتال نابلس منقتل کر دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق غاصب یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں پر حملوں کے علاوہ مغربی نابلس میں شافی شمرون روڈ پر کھڑی گاڑیوں پر پتھراؤ کر کے ان کے شیشے توڑ ڈالے۔
ایک دوسرے شہری نے بتایا کہ نابلس میں یہودی حملوں کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ یہودی آبادکاروں کی دہشت گردی کے خلاف شہریوں نے مظاہرہ کیا جسے منتشر کرنے کے لیے صہیونی حکام نے لاٹھی چارج کیا اور اشک آور گیس کے گولے برسائے۔
ادھر نابلس میں عوریف کے مقام پر یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں کے گھروں پرحملے کیے جس کے جواب میں اہل محلہ نے انتہا پسند یہودیوں کی درگت بنائی۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے مداخلت کرکے یہودی آباد کاروں کو علاقے سے نکال دیا۔ عوریف کے رہائشی نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ صہیونی فوج نے فلسطینیوں پر آشک آور گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں کئی افراد بے ہوش ہوئے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
