نومبر کے مہینے غزہ پر اسرائیلی غارت گری کے بعد سے مغربی کنارے کے تمام شہروں میں فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
ان کارروائیوں میں اب تک متعدد یہودی آبادکار اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔ عبرانی ذرائع ابلاغ نے اعتراف کیا ہے کہ صہیونیوں کے خلاف فلسطینیوں کی مزاحمت میں شدت آئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق فلسطینی عام طور پر صہیونی فوج اور آبادکاروں پر پتھراؤ اور دیسی ساختہ پٹرول بموں سے حملہ کرتے ہیں، جن علاقوں میں اسرائیل کے خلاف مزاحمت میں زیادہ اضافہ ہوا ان میں مقبوضہ بیت المقدس، الخلیل، رام اللہ اور قلقیلیہ کے علاقے شامل ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی ویب سائٹ ”یشع” کا کہنا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی کارروائیاں روزانہ کی بنیاد پر ہو رہی ہیں، فلسطینی حالیہ عرصے میں صہیونی فوج پر درجنوں حملے کر چکے ہیں جس سے نا صرف متعدد یہودی زخمی ہوئے بلکہ آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کو شدید مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔ ان کارروائیوں میں متعدد اسرائیلی گاڑیاں بھی تباہ ہوئی ہیں۔
دوسری جانب فلسطینیوں نے اسرائیلی جارحیتو ں کا منہ توڑ جواب دینے اور یہودی آبادکاروں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے نت نئے طریقوں کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ ایسے ہی ایک طریقے پر عمل کرتے ہوئے فلسطینی یہودی بستیوں کے مرکزی راستوں اوریہودی آباد کاروں کی دیگر گزر گاہوں پر بڑے پتھر اور بلاک رکھ دیتے ہیں ، پتھر ایسے مقامات پر رکھے جاتے ہیں جہاں ان پر روشنی نہ پڑ رہی ہو اور وہ دور سے نظر نہ آ سکیں۔ صہیونی آباد کار اور اسرائیلی فوج کے اہلکار ان بلاکس کے بالکل قریب آ کر اچانک گاڑیاں روکتے روکتے حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ فلسطینی مزاحمت کاروں کی اس نئی طرز کی حکمت عملی سے اب تک متعدد صہیونی زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ کارروائیاں زیادہ تر رام اللہ کے مغربی دیہاتوں اور اور جنوبی ٹاؤن میں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
