فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں اراکین قانون سازکونسل نے سیکیورٹی فورسزکے ہاتھوں سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسلامی تحریک مزاحمت حماس اور دیگر سیاسی جماعتوں کے اراکین پارلیمان کا کہنا ہے کہ مغربیکنارے میں سیاسی پکڑدھکڑ نہایت خطرناک اشارہ ہے۔ انہوں نے سیاسی گرفتاریاں روکنے کے لیے فتح اور حماس کی مشترکہ کمیٹی کے کردار پر تعجب کا اظہار کیا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے پارلیمانی بلاک اصلاح و تبدیلی کے اراکین پارلیمان نے قلقیلیہ شہر میں عباس ملیشیا کے ہاتھوں حماس رہ نما اور سابق اسیر شادی زائد عودہ کی گرفتاری کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ شادی عودہ کی گرفتاری ملک میں مفاہمت کےلیے کی جانے والی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔ مغربی کنارے میں صدر محمودعباس کے زیر کمانڈ سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں سیاسی جماعتوں کا تعاقب نہایت خطرناک ہے اور اس سے سیکیورٹی فورسزکی قوم میں ساکھ بری طرح مجروح ہوئی ہے۔
فلسطینی اراکین نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہےکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں سیاسی بنیادوں پر جتنے شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے انہیں جلد ازجلد رہا کیا جائے،کیونکہ یہ گرفتاریاں قومی مفاہمت کی راہ میں سنگین نوعیت کی رکاوٹ ہیں۔
بیان میں فتحاور حماس کے رہ نماؤں پر مشتمل سیاسی گرفتاریاں روکنے اور گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی کے لیے قائم فریڈم کمیٹی کےکردار پرافسوس کا اظہار کیا گیا۔ اراکین پارلیمان کا کہنا تھا کہ ہمیں حماس اورفتح کی اس مشترکہ کمیٹی کی خاموشی پر حیرت ہے، حالانکہ اس کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ تمام اسیران کی رہائی یقینی بنائے اور مزید گرفتاریوں کا باب بند کرائے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

