قابض اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس کے مختلف حصوں سے سات فلسطینی شہریوں کو حراست میں لے لیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے جنین کے جنوب مغرب میں یعبد قصبے پر دھاوا بول دیا اور گھروں کی تلاشی لی۔ اس کے بعد تین شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ اس کے علاوہ دو شہریوں کو شہر کے مشرق میں واقع زعیم فوجی ناکے کے قریب بیت المقدس میں اپنے کاموں پر جاتے ہوئے گرفتار کرلیا گیا۔
اسرائیلی فوجیوں نے بیت المقدس کے قدیم شہر میں ایک گھر پر دھاوا بول دیا اور وہاں سے دو لڑکوں کو حراست میں لے لیا۔ اس کے علاوہ صیہونی فوج نے بیت عمار گائوں پر دھاوا بولا اور اس کی گلیوں میں گشت کیا جبکہ اس دوران فوجیوں نے دو شہریوں کو روک کر ان کی شناخت دیکھنے کے بعد انہیں تفتیشی مرکز منتقل کردیا گیا جہاں پر اگلی صبح ان کی گرفتاری کا اعلان کیا گیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فوج نے پچھلے کچھ دنوں سے قصبے میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے اور فوجیوں اور یہودی آبادکاروں پر پتھرائو کرنے اور پٹرول بم پھینکنے کے الزام فلسطینی نوجوانوں کو حراست میں لینے کی مہم شروع کررکھی ہے۔
دریں اثناء ہفتے کے رات کو فوار مہاجر کیمپ کے داخلی راستے پر درجنوں فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی اہلکاروں کے درمیان تصادم شروع ہوگئے۔ عینی شاہدین نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے کیمپ کے داخلی راستے پر دھاوا بول دیا اور دکانوں، گھروں اور کھیتوں پر آنسو گیس کے شیل پھینکنا کرنا دیئے۔
اس کے جواب میں فلسطینی نوجوانوں نے خالی بوتلیں پھینکیں اور پتھرائو کیا اور اس کے بعد تصادم کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فوجی ان تصادم کے دوران کیمپ کے مضافاتی علاقوں میں بھاری تعداد میں موجود تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
