فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر سلفیت میں گذشتہ مہینے ایک ہی خاندان کے چار افراد کے بہیمانہ قتل کا ڈراپ سین سامنے آیا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ سلفیت میں الفاتونی خاندان کی خاتون اور اس کے دو بچوں کے قتل میں اسی خاندان کا اسرائیلی خفیہ اداروں کے لیے کام کرنے والا ایجنٹ ملوث ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق سلفیت کے پولیس ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ زیر حراست ملزم عبدالمنعم الفاتونی اعتراف کیا ہے کہ وہ اسرائیلی خفیہ اداروں کے لیے جاسوسی کر رہا تھا اوراس کے قوم دشمن اقدام کی خبر اس کی بھابھی اور بھتیجوں کو بھی ہو گئی تھی۔ اپنے اس جرم کو چھپانے کے لیے اس نے بھابھی اور اس کے دو بچوں کو قتل کرنے کا ایک دوسرا گھناؤنا جرم کیا ہے۔
ملزم نے پولیس کو بتایا کہ جب اس نے صہیونی انٹیلی جنس اداروں کو اپنے رابطے کی مخبری کی اطلاع دی تو اسے ہدایت کی گئی کہ جس جس شخص کو بھی اس کا علم ہوا ہے اسے قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ میں نے بھابھی اور اس کے دو بچوں کو اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کی ہدایت اور رہ نمائی میں قتل کیا ہے۔ یوں بالواسطہ طور پر نہتے خاندان کے خون میں ہاتھ رنگنے میں اسرائیل بھی ملوث ہے۔
خیال رہے کہ دو ہفتے قبل سلفیت میں فاتونی خاندان کی ایک ستائیس سالہ حاملہ لینا حسین عبدالقادر الفاتونی اور اس کے دو بچوں کو ان کے گھر میں مردہ حالت میں پایا گیا تھا۔ ان کی پراسرار ہلاکت کے بارے میں ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ یہ خاندان کی اجتماعی خود کشی کا وقعہ ہو سکتا ہے تاہم پولیس نے کئی پہلوؤں سے تفتیش کرتے ہوئے مقتولہ کے دیور کوبھی حراست میں لیا۔ دوران تفیش ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ اسرائیلی خفیہ اداروں کے لیے جاسوسی کرتا رہا ہے اور اس کی خبراس کی بھابھی کوبھی ہو گئی تھی۔ چنانچہ اس نے صہیونی انٹیلی جنس سے اپنے رابطے خفیہ رکھنے کے لیے بھابھی لینا اور کے دو بچوں مجد اور جمیل راسم الفاتونی کا گلہ گھونٹ کر انہیں قتل کر دیا۔ قتل کی واردات چھپانے کے لیے قاتل نے گھرمیں لگا قدرتی گیس کا کنکشن کھول دیا تھا تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ ان کی موت گیس کھلنے کے باعث ہوئی ہے۔
درایں اثناء عبدالمنعم الفاتونی خاندان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پورا خاندان عبدالمنعم سے بریت کا اظہار کرتے ہوئے اس سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اعلان کرتا ہے۔ فاتونی خاندان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عبدالمنعم نے اپنے ایک گھناؤنے جرم کو چھپانے کے لیے اس سے زیادہ خوفناک جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ اب اندرون ملک اور بیرون فلسطین کسی بھی جگہ ہمارے خاندان کے کسی فرد کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ خاندان کا کوئی فرد اس کے مقدمہ کی پیروی نہیں کرے گا اور اسے عدالت کی جانب سے کسی بھی سنگین سے سنگین تر سزا کی بھی حمایت کی جائے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
