فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کی گلی کوچوں میں منتشر یہودی آباد کاروں کے مسلمانوں اور عربوں کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کو معلوم ہوا ہے کہ یہودی انتہا پسندوں کے ایک گروپ نے جنین میں”ترسلہ” کالونی میں ایک کیمپ لگا کر مقامی فلسطینی کسانوں کو اپنے کھیتوں میں کاشت کاری کے لیے جانے سے روک دیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق جنین۔ نابلس شاہراہ پر قائم یہودی کالونی "مخلات” (ترسلہ) میں درجنوں یہودی آباد کاروں نے جمع ہو کر ایک کیمپ لگایا جس میں مختلف مقامی کھیلوں اور دیگر تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کیمپ لگانے والے یہودی مسلح تھے اور انہوں نے سڑک سے گذرنے والے فلسطینیوں کی آمد ورفت پر بھی پابندی عائد کردی۔ رات گئے تک کیمپ میں رقص سرود کی محلفیں اور عرب اور مسلمانوں کےخلاف نعرے بازی جاری رہی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انتہا پسند یہودیوں کا کالونی کے ایک خالی گراؤنڈ میں کیمپ لگانے کا مقصد کئی دنوں تک فلسطینیوں کے خلاف اپنی اشتعال انگیز کارروائیوں کو جاری رکھنا ہے۔ خیال رہے کہ جنین۔ نابلس شاہراہ پر قائم کیے گئے اس کیمپ سے کچھ ہی فاصلے پر فلسطینی شہریوں کی اراضی ہے، جہاں وہ کاشت کاری کے لیے جاتے ہیں۔ فلسطینیوں کو زمینوں تک پہنچنے کے لیے یہودی کالونی کے درمیان سے گذرنے والے اسے راستے کو استعمال کرنا پڑتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
