اسرائیلی فوج کی اسپیشل یونٹ کے اہلکاروںنے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارےکے وسطی شہر رام اللہ میں ایک کارروائی کر کے اسلامی جہاد کے مرکزی رہ نما کو گرفتار کر لیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج نے سوموار کے روز اسلامی جہاد کے رہ نما چوبیس سالہ محمد صالح بدر کو ان کے ایک جنرل اسٹور سے حراست میں لیا گیا۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اسرائیلی نمبر پیلیٹ والی ایک گاڑی رام اللہ میں صالح بدر کی دکان کے سامنے چند منٹ کھڑی ہوئی۔ پھر اس میں کچھ اسرائیلی فوج کے مسلح افراد باہر نکلے اور تیزی سے دکان میں گھس گئے اور صالح بدرکو دبوچ لیا۔ بعد ازاں انہیں گھسیٹے ہوئے گاڑی میں ڈال کر نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔
خیال رہےکہ صالح بدر اسلامی جہاد کے نوجوان اور متحرک رہ نماؤں میں سے ایک ہیں۔ وہ پہلے بھی اسرائیلی جیلوں میں قید رہ چکے ہیں۔ جاتے ہوئے صہیونی فوج نے ان کی دکان سے صالح بدر کے زیر استعمال ایک لیپ ٹاپ اور ان کا موبائل بھی قبضےمیں لے لیا۔ اسلامی جہاد سے تعلق اوراسرائیل کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں کے الزام میں انہیں ساڑھے چار سال عقبوت خانوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ چند ماہ قبل ہی ان کی رہائی عمل میں لائی گئی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
