فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کی جماعت الفتح اور فلسطینی اتھارٹی کی مسلح افواج کے ہاتھوں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” سے وابستہ کارکنوں کی بلا جواز گرفتاریوں اور سیاسی بنیادوں پر ملازمتوں سے برطرفیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ تازہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب ایک ہی روز قبل فلسطینی صدر محمودعباس نے امیر قطر کے ہمراہ حماس کے سربراہ خالد مشعل کے ساتھ ایک مفاہمتی سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔ اس سمجھوتے کے تحت انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ مغربی کنارے میں آئندہ کے لیے سیاسی گرفتاریوں کا سلسلہ بند کردیں گے۔
مرکزاطلاعات فلسطین مقبوضہ مغربی کنارے میں حماس کے کارکنوں کی گرفتاریوں اور ملازمتوں سے برطرفیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ منگل کے روز یومیہ کی بنیاد پر حماس کے کارکنوں کو گرفتار کرنے کا عمل جاری ہے۔ کئی ارکان کو سیکیورٹی مراکز میں طلب بھی کیا گیا ہے۔
مغربی کنارے کے شمالی شہر قلقیلیہ میں فلسطینی ملیشیا نے یونیورسٹی کا ایک طالب علم عبداللہ نوفل حراست میں لے لیا۔ اسی علاقے سے عباس انٹیلی جنس فورسز نے ایک روز قبل ایک دوسری طالب علم سلیم برہم کو حراست میں لیے لیا تھا۔
نابلس میں فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام ایک عدالت نے زیرحراست فلسطینی طالب علم مثنٰی اشتیہ کی مدت حراست میں مزید پندرہ دن کی توسیع کردی ہے۔ اشتیہ کی مدت اسیری میں ماضی میں بھی متعدد مرتبہ توسیع کی گئی ہے۔
ادھر نابلس ہی میں سلام فیاض کی غیرآئینی حکومت کے حکم پر ایک اسکول کے استاد یزد طنبور کو حماس کے ساتھ ہمدردی رکھنے کی پاداش میں نوکری سے نکال دیا گیا۔
طولکرم میں زیرحراست انس رداد کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے فرزند کو عدالت کی جانب سے رہائی کا حکم دیے جانے کے باوجود حراست میں رکھا گیا ہے۔
الخلیل میں عباس ملیشیا نے حماس کے رکن نبیل محمد رجوب کے گھرمیں اس کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تاہم گھر پر نہ ہونے کے باعث ان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے۔ جس کے بعد ان کے گھر میں رجوب کو سیکیورٹی مرکز میں خود کو پیش ہونے کا نوٹس چھوڑا گیا۔
خیال رہے کہ مغربی کنارے میں حماس کے کارکنوں کے ساتھ عباس ملیشیا کی ان انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب دوسری جانب صدر محمودعباس نے حماس کے ساتھ ایک مفاہمتی سمجھوتہ کرتے ہوئے نگراں حکومت کے لیے وزارت عظمیٰ کا عہدہ بھی سنبھال لیا ہے۔

