مصری پارلیمنٹ کی عرب امورسے متعلق کمیٹی کا منگل کو خصوصی اجلاس ہوا جس میں فلسطینی شہرغزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کے رد عمل میں اسرائیلی سفیرکی ملک بدری، اسرائیل کو گیس کی فراہمی روکنے اور صہیونی ریاست کے ساتھ تین تجارتی معاہدے منسوخ کرنے بارے سفارشات پرغور کیا گیا۔
اجلاس میں مصری وزارت خارجہ سے متعلق امور کے سفارت کار طاہرفرحات اور فلسطینی امورکے انچارج بہاؤالدین الدسوقی بھی موجود تھے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق پارلیمنٹ میں عرب امورسے متعلق خصوصی کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد ادریس نے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے پارلیمانی کمیٹی کے تحت جو سفارشات پیش کی ہیں تمام اراکین پارلیمان کو ان پرعمل درآمد کرنے بالخصوص اسرائیلی سفیر کی بے دخلی کے بارے میں سفارشات کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش کررے ہیں۔ ہم پارلیمنٹ سے مطالبہ کریں گے کہ وہ کمیٹی کی سفارشات کو من و عن تسلیم کرے۔
کمیٹی نے سابق مصری آمر صدر حسنی مبارک کےدور میں کیے گئے "کیمپ ڈیوڈ” سمجھوتے میں ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے تحت جن سرحدی علاقوں کو غیرفوجی علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ ان میں فوج دوبارہ بھیجی جائے اورملک کی سرحدوں کا پوری قوت کے ساتھ دفاع کیا جائے۔
اس موقع وزارت خارجہ میں اسرائیلی امورکے نگران طاہر فرحات نے اسرائیلی سفیر کی بے دخلی کی سفارش کی مخالفت کی اور کہا کہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات کا قیام مصر کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی سفیر کو بے دخل کرنے سے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے کی جانے والی مصالحتی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ مصر اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کا قیام ایک دانشمندانہ فیصلہ ہو گا اور مصری پارلیمنٹ ایسے اقدام سے گریز کرے جس سے ملک کے مفادات کو نقصان پہنچے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

