فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے مصری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محصور شہر اور مصرکے درمیان شہر کی واحد زمین گذرگاہ رفح بارڈر کو مستقل بنیادوں پر کھول دے۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی کے لاکھوں شہری گذشتہ چھ سال سے ظالمانہ معاشی ناکہ بندیوں کا شکار ہیں۔ بیرونی دنیا سے غزہ کے عوام کے رابطے کا واحد ذریعہ رفح راہداری ہے۔ مصر کی نئی حکومت سے یہ توقع کی جانی چاہیے کہ وہ فلسطینیوں کو مزید مشکل میں نہیں ڈالے گی اور رفح پھاٹک کو جلد از جلد مستقل بنیادوں پر کھول دی گی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہار رفح راہداری کی تعمیر نو کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے ہم فلسطین اور مصر کے درمیان تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں۔
عرب ممالک بالخصوص مصر میں آنے والی تبدیلی کے بعد غزہ کی پٹی کا بدستور محاصرے میں رہنا افسوسناک ہے۔ مصر کی نئی حکومت کو چاہیے کہ وہ غزہ کی بیرون ملک رابطے کی واحد گذرگاہ رفح کو جلد از جلد مستقل بنیادوں پر کھولے۔ انہوں نے کہا کہ عالم عرب میں جاری انقلاب کی تحریک اسلامی بیداری کی تحریک ہے۔ اس تحریک کا فلسطینیوں کو فائدہ پہنچنا چاہیے۔ غزہ کی پٹی کے شہری سنگین نوعیت کی مشکلات کا شکار ہیں۔ رفح بارڈر کھول دی جائے تو ان کے تجارتی، صنعتی اور زرعی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ مصری عوام کو بھی تجارت اور زراعت کے میدانوں میںفائدہ پہنچے گا۔
فلسطینی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غزہ کی عوام مصر میں گذشتہ برس برپا ہونے والے انقلاب کے بعد یہ توقع رکھتے ہیں کہ مصری حکومت ان کے ساتھ سابق دور حکومت میں جاری پالیسی برقرار نہیں رکھیں گے بلکہ ان کی صحیح سمت میں مدد کی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ مصرمیں انقلاب کے بعد غزہ کی پٹی سے سرحد پارآنے جانے والے مسافروں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔
اسماعیل ھنیہ نے اپنی تمام گفتگو میں مصری حکومت کی غزہ کی پٹی کے محصورین سے متعلق ذمہ داریوں پر کی۔ انہوں نے کہا کہ قاہرہ حکومت غزہ کی پٹی میں اپنے تجارتی حجم میں بھی اضافہ کرے۔ کیونکہ غزہ کی پٹی اور مصرمیں کوئی فرق نہیں ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
