• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

مصری فوجیوں کے قتل میں‘‘موساد’’ سے تعاون کا الزام، دحلان کےخلاف مقدمہ درج

جمعہ 10-08-2012
in فلسطین
0
plf mossad
0
SHARES
6
VIEWS

 

مصر کے ایک ممتاز قانون دان اور وکیل مصطفیٰ علوان نے پراسیکیوٹر جنرل عبدالمجید محمود کی عدالت میں ایک ایف آئی آر جمع کرائی ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ فلسطینی جماعت الفتح کے منحرف لیڈر محمد دحلان سیناء کے علاقے میں گذشتہ اتوار کے روز مصری فوجیوں پر ہوئے دہشت گردانہ حملے میں ملوث ہیں۔ ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ محمد دحلان نے مصری فوجیوں پر حملے کے لیے اسرائیلی خفیہ تنظیم‘‘موساد’’ کے ساتھ تعاون کیا تھا اور انہیں حملے پر اکسایا تھا۔ خیال رہے کہ گذشتہ اتوار کو شمالی سیناء میں نامعلوم مسلح افراد نے مصری فوجیوں پر حملہ کرکے سولہ فوجیوں کو قتل کردیا تھا۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مصری پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر میں درج کرائی گئی ایف آر نمبر 2177 مجریہ سنہ 2012ء میں کہا گیا ہے کہ مصری فوجیوں پر حملے میں‘‘فری مصر’’ کے نام سے سرگرم ایک دہشت گرد گروپ ملوث ہے۔ یہ گروپ فتح کے منحرف لیڈر محمد دحلان کی قیادت میں کام کرتا ہے اور اس کی براہ راست نگرانی اسرائیلی خفیہ ادارہ ‘‘موساد’’ کرتا ہے۔

فرسٹ انفارمیشن رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محمد دحلان کے مصری فوجیوں کے قتل میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد اور ثبوت موجود ہیں۔ ان شواہد میں سے ایک اہم گواہی دحلان کی جانب سے مصری فوجیوں کی چوکیوں اور ان کے ٹھکانوں کے بارے میں موساد کو نقشوں کی فراہمی بھی ہے۔ یہ نقشے دحلان کی جانب سے حال ہی میں صہیونی خفیہ ادارے کے اہلکاروں کو فراہم کیے گئے ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ محمد دحلان کی مشکوک سرگرمیوں کےخلاف کچھ عرصہ قبل بھی سابق پراسیکیوٹر جنرل احمد البحراوی اور قاہرہ کے اٹارنی جنرل سیف ابو سمرہ کی عدالتوں میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں تاہم ان دونوں عدالتوں نے دحلان کے بارے میں درخواستوں پر کسی قسم کی تحقیقات نہیں کیں، جس کے باعث دحلان کو صہیونی حکام کے ساتھ مل کر مصری فوجیوں کےخلاف سازش کرنے کا موقع ہاتھ آگیا تھا۔ لہٰذا اس درخواست میں بھی ایک مرتبہ پھر پراسیکیوٹر جنرل سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ محمد دحلان اور اس کے گروپ کے خلاف تحقیقات کا آغاز کریں۔

بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.