مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ہفتے کو غزہ وزارت داخلہ کے دفتر سے جاری ایک بیان میں وادی سیناء میں دو مختلف حملوں میں کم سے کم 30 مصری فوجیوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ایسے واقعات میں فلسطینیوں کو گھسیٹنے کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ غزہ کی پٹی کی سرحد پر سیکیورٹی کنٹرول میں ہے۔ ہم مصر اور فلسطین سمیت کسی دوسرے عرب یا مسلمان ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں بنیں گے۔
مصر کی سلامتی فلسطین کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ جزیرہ نما سینا میں جمعہ کے روز دہشت گردی کے پیش آئے واقعات مصر کی اندرونی کشمکش کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ غزہ کی پٹی اور مصر کی درمیانی سرحد پر اب کوئی زیر زمین خفیہ سرنگ موجود نہیں رہی ہے۔ مصری فوج نے پچھلے دو سال کے دوران سرنگوں کا مکمل صفایا کر دیا ہے۔
بیان میں مصری حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غزہ کی پٹی کی واحد بین الاقوامی گذرگاہ رفح کو بند نہ کرے کیونکہ جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی کی لاکھوں کی آبادی پہلے ہی اسرائیل کی آٹھ سال سے مسلط کردہ معاشی ناکہ بندیوں کا سامنا کر رہی ہے۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی حکومت جزیرہ نما سینا میں مصری فوجیوں پر حملوں کی تحقیقات میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے تاہم مصری فوج نے سرحد کو تین ماہ کے لیے بند کرنے کا جو حل نکالا ہے وہ مناسب نہیں کیونکہ رفح کراسنگ کی بندش سے غزہ کی پٹی کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خیال رہے کہ ہفتے کے روز مصری صدر فیلڈ مارشل ریٹائرڈ عبدالفتاح السیسی کے زیرِ صدارت نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں جزیرہ سینا میں دہشت گردی کے واقعات میں 30 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد جزیرہ سینا کے بعض حصوں میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی غزہ کی پٹی اور مصرکے درمیان بین الاقوامی راہ داری رفح کو بھی تین ماہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
