مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق سابق ترک صدر نے ان خیالات کا اظہار کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں ’’ہولی فیکس‘‘ بین الاقوامی امن کانفرنس میں شرکت کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں فلسطین کا مسئلہ ’’ام المسائل‘‘ کا درجہ رکھتا ہے جب تک اس اہم اور دیرینہ تنازع کا منصفانہ حل نہیں نکالا جاتا اس وقت تک قیام امن کی تمام کوششیں بے کار ثابت ہوں گی۔
عبداللہ گل نے عالمی برادری بالخصوص یورپی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کے اقدامات پر اطمینان ظاہر کیا اور اسے نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا۔
سابق ترک صدر نے شام اور عراق میں جاری کشیدگی اور عدم استحکام پر بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ترکی مشرق وسطیٰ کا حصہ نہیں لیکن عراق اور شام ہمارے مسلمان ہمسائے بھائی ہیں۔ ترکی ان ملکوں میں بھی قیام امن کے لیے اپنی مساعی جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ ترکی نے 10 لاکھ سے زیادہ شامی پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھایا ہے۔ شامی پناہ گزینوں کی عارضی آباد کاری سے بڑھ کر امن وامان کے مسائل ہیں اور یہ لوگ ترکی کی سیکیورٹی کے لیے بھی مسئلہ بن سکتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
