قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس میں موجود قبلہ اول مسجد اقصٰی میں پچاس سال سے کم عمر کے فلسطینی شہریوں کے داخلے پر پابندی لگادی جس کی وجہ سے نمازیوں نے قدیم بیت المقدس کی گلیوں میں نماز ادا کی۔
مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصٰی کو جانے والی تمام سڑکیں اور مسجد کے داخلی راستے بند کردئیے اور فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگا دیں۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے مسجد کے داخلی راستوں پر لوہے کے بیرئیر کھڑے کردئیے اور پچاس سال سے کم عمر کے تمام مرد و زن کو مسجد میں داخلے سے روک دیا۔
کچھ فلسطینی نوجوانوں نے اسرائیلی فوج کی اس حرکت کو بھانپتے ہوئے ایک روز پہلے ہی مسجد میں داخل ہوگئے تھے تاکہ یہودی آبادکاروں کی جانب سے مسجد کی بے حرمتی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا دیا جائے۔
مختلف فلسطینی مذہبی رہنمائوں نے حال ہی میں مقبوضہ علاقوں کے فلسطینیوں پر زور دیا ہے کہ مسجد اقصٰی کے اردگرد اور اندر اپنی تعداد بڑھائیں تاکہ مسجد اقصٰی کو یہودی معبد کی مبینہ مسماری کی برسی کے موقع پر یہودی بے حرمتی سے محفوظ رکھا جاسکے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
