مسجد اقصٰی کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم "الاقصٰی فاؤنڈیشن اینڈ ٹرسٹ” نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی کے ایک انتہا پسند رکن کنیسٹ سمیت متعدد یہودیوں نے قبلہ اول سے متصل ایک تاریخی مقام کو یہودی خواتین کے مذہبی غسل اور طہار خانے میں تبدیل کی ناپاک کوششیں شروع کردی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انتہا پسند رکن کنیسٹ "علیزہ لیفی” کا تعلق اسرائیل کی انتہا پسند تنظیم” یش عتید” سے ہے جو اس وقت پارلیمنٹ میں بھی شامل ہے۔ اس نے مسجد اقصٰی کے پہلو میں ایک تاریخی مقام پر یہودی زائرات کے لئے طہارت خانہ بنانے کے مساعی تیز کردی ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اقصیٰ فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جس جگہ یہودی انتہا پسند خواتین کے لیے غسل خانہ بنانے کی تیاری کر رہے ہیں وہ مسجد اقصٰی کا حصہ ہے جسے اسلامی اوقاف میں وقف کردیا گیا ہے۔
علیزہ لیفی اور دیگر یہودیوں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے پہلو میں یہودی خواتین کے "اشنان” کے لیے غسل خانے کا قیام مقدس مقامات پر براہ راست حملے کے مترادف ہے۔ یہ اقدام عالمی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت "یونیسکو” نے مسجد اقصی اور اس کے تمام مضافاتی علاقوں کو اسلامی تاریخی میراث کا حصہ قرار دے رکھا ہے۔
