اردنی وزیر مذہبی امور حائل الدائود نے کہا ہے کہ اسرائیل کا مسجد اقصٰی پر قبضہ قابل مذمت ہے اور انہوں نے مسجد پر اردنی خودمختاری قائم کرنے پر زور دیا۔
دائود نے یہ بیان عمان میں بیت المقدس کلچرل فورم کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ اردنی وزیر کا کہنا تھا کہ اردن کی مسجد اقصٰی پر مذہبی، قانونی اور انتظامی خود مختاری ہے لیکن اسرائیل نے مسجد پر اپنی سیاسی اجارہ داری قائم کرلی ہے اور یہ ناقابل قبول ہے۔
اس موقع پر فورم کے سربراہ اسحاق فرحان نے کہا ہے کہ مسجد اقصٰی پر اردن کا حق مسلمان امت کی طرف سے ہے اور اس پر آںے والا کوئی خطرہ پوری امت کے لئے خطرے کی حیثیت رکھتا ہے۔ فرحان کا مزید کہنا تھا کہ مسجد کے معاملات میں اسرائیلی مداخلت پر پابندی لگانے سے ہی مسجد پر اسلامی خودمختاری قائم ہوگی۔
اسی تناظر میں اقصٰی فائونڈیشن برائے اوقاف و ورثہ نے ایک بار پھر یہودی آبادکاروں، خاص طور پر فوجیوں کی جانب سے دراندازیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقصٰی فائونڈیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے بار بار دراندازی مسلمان امت کے لئے وارننگ ہیں اور مسجد اقصیٰ اور اس کے نمازیوں کی حفاظت کے لئے خطرہ ہیں۔
فائونڈیشن نے یہ وارننگ اتوار کے روز 60 اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے واقعے کے بعد جاری کی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
