• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

محمود عباس کی نئی کابینہ میں اسرائیل کی مقرب شخصیات کی شمولیت کی مشاورت

جمعرات 18-06-2015
in فلسطین
0
plf israel-favoring
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطینی اتھارٹی کےایک ذمہ دار ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ صدر محمود عباس نئی کابینہ میں اسرائیل کے زیادہ مقرب سمجھی جانے والی شخصیات کو شامل کرنے کے لیے اپنی پارٹی سے صلاح مشورہ کررہے ہیں۔ دوسری جانب فتح کی سینٹرل کمیٹی میں نئی کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے سخت اختلافات بھی سامنے آئے ہیں اور پارٹی قیادت نے ایک دوسرے پرالزامات بھی عاید کیے ہیں۔

ذرائع نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ صدر محمود عباس نے وزیراعظم رامی الحمد اللہ کی زیرقیادت کابینہ کی برطرفی کے بعد نئی کابینہ کی تشکیل کے لیے غور شروع کیا ہے۔ اس سلسلے میں ان شخصیات کے نام لیے جا رہے ہیں جو اسرائیل کے زیادہ قریب سمجھی جاتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق صدر عباس کی جانب سے اسرائیل کی مقرب سیاسی شخصیات کو مخلوط قومی حکومت میں شامل کرنے کا مقصد "فتح ” کے سیاسی مستقبل کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی میں طویل جنگ بندی کے بدلے محاصرے کوختم کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر محمود عباس غزہ کی پٹی سے حکومت میں شامل تمام وزراء سوائے نائب وزیراعظم زیاد ابو عمرسب کو ہٹانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نئی کابینہ میں اشرف العجرمی کو بھی شامل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ العجرمی اسرائیل کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

ادھر رام اللہ میں صدر محمود عباس کی جماعت "تحریک فتح” کے گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں صدر عباس کی پالیسیوں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ پارٹی کے بعض قائدین نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر عباس دو رخی پالیسی پرعمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کابینہ میں شامل بعض ایسے وزیروں کو بھی عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور انہیں ہٹانے کا کوئی جواز بھی نہیں ہے۔

خیال رہےکہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے منگل کے روز فتح کی انقلابی کونسل کے اجلاس کے دوران مخلوط قومی حکومت کو چوبیس گھنٹے کے اندر اندر استعفے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ حماس اور فلسطین کی دوسری سیاسی جماعتوں نے صدر عباس کے فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے آمرانہ اور غیر جمہوری قرار دیا تھا۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.