فلسطینی اسیران اور صہیونی عقوبت خانوں سے رہائی پانے والے شہریوں کے امور کی وزارت نے اسرائیلی جیلوں میں مقید فلسطینیوں کی تنخواہیں روک لینے کی دھمکی دیدی ہے جس سے ایک بار پھر فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کی خفیہ ساز ساز کی باتوں نے زور پکڑ لیا ہے۔
اتھارٹی نے کہا کہ اگر اسرائیلی جیل میں کسی بھی فلسطینی قیدی نے کوئی بھی ضرورت کی چیز اسمگل کرنے کی کوشش کی تو اس کی تنخواہ کاٹ لی جائے گی۔ فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیلی حکام کو بلاوجہ گرفتار کیے گئے فلسطینیوں کے خلاف مظالم اور سختیوں کا سلسلہ بند کرنے کے مطالبے کے بجائے انہیں مظلوم فلسطینیوں کو دھمکی دے کر ثابت کردیا کہ اسرائیل کو اپنی جارحیتوں میں فلسطینی اتھارٹی کا پورا تعاون حاصل ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کی وزارت نے کہا کہ جو کوئی جیل میں اسمگلنگ کرتے پکڑا گیا تو اسے سکیورٹی قیدی شمار نہیں کیا جائے گا اور اس کی تنخواہ روک لی جائے گی۔
خیال رہے کہ صہیونی عقوبت خانوں میں اسرائیلی حکام نے فلسطینی قیدیوں کو ضروری ادویات سے بھی محروم کر رکھا ہے۔ اس حوالے سے فلسطینی اسیران مجبور ہوکر ادویات وغیرہ کو اسمگلنگ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، جیل میں داخل کیے جانے والے موبائل ہی ان قیدیوں کا اپنے رشتہ داروں سے رابطہ کرنے کا واحد ذریعہ ہیں۔ یہ قیدی برسہا برس سے اپنے اہل خانہ سے ملاقات سے محروم ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
