اسرائیلی حکومت نے ’’الشارون‘‘ جیل میں قید فلسطینی اسیرات کو تکلیف پہنچانے کے لیے ان کی بیرکوں میں اسرائیلی جرائم پیشہ خواتین کو منتقل کر دیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد صہیونی جرائم پیشہ خواتین کی جانب سے فلسطینی بے گناہ اسیرات سے بدسلوکی کے واقعات بھی رونما ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
فلسطین میں سرگرم انسانی حقوق کی تنظیم ’’القدس کی روح‘‘نے اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران کے ساتھ ہونے والے مظالم کی ایک اور صورت سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ اس جیل سے فرار ہونے والی ایک اسیرہ کی جانب سے موصول ہونے والے پیغام میں مطابق ’’الشارون‘‘ جیل میں فلسطینی اسیرات کے یونٹ میں یہودی جرائم پیشہ خواتین کو منتقل کر کے فلسطینی خواتین کے مصائب میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس یونٹ میں کریمنل کیسز میں گرفتار بائیس یہودی خواتین منتقل کی جا چکی ہیں۔
تنظیم کے مطابق فلسطینی اسیرات سے انتظامیہ سے اس حوالےسے استفسار کیا تو جیل انتظامیہ کا کہنا تھا کہ عنقریب ان جرائم پیشہ خواتین کودوبارہ اپنی بیرکوں میں بھیج دیا جائے گا۔ جیل کی ابتر صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ فلسطینی اسیرات کے یونٹ میں مختلف قسم کے کیڑے مکوڑے اور خطرناک حشرات موجود ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے بیرکوں میں لگے کیمروں کے سبب بھی اسیرات کو سخت مشکل کا سامنا ہے۔
فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیم نے اسیران کے حقوق کے لیےسرگرم تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ فوری مداخلت کر کے الشارون جیل کے حالات میں بہتری کے لیے اقدامات اٹھائیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

