انسانی حقوق یک جہتی تنظیم کے تحقیق کار احمد بیتاوی نے بتایا کہ جلبوع جیل کی انتظامیہ نے اسیران کو پیغام بھیجا ہے کہ گرمیوں کی اس شدت کے دوران ان کی بیرکوں سے پنکھے اتار لیے جائیں گے۔ گرمی اور حبس کی بے پناہ شدت کے ساتھ ہی بیرکوں میں بجلی سے چلنے والے پنکھے بھی اتار لیے گئے جس سے اسیران کی تکلیف میں شدید اضافہ ہوگیا ہے۔
احمد بیتاوی نے بتایا کہ اسرائیلی جیل انتظامیہ نے گیارہ سال سےزیر حراست مشرقی القدس کے معروف فلسطینی اسیررہنما مالک ناجح بکیرات کی رمضان کی آمد کے موقع پر دی گئی درخواست کو رد کردیا۔ جیل انتظامیہ نے ماہ صیام کےآتے ہیں ان کو اشیاء کی خریداری کی سہولت دینے کے بجائے ان کے پاس پہلے سے موجود اشیاء بھی اٹھا لیں۔
فلسطینی اسیر ناجح بکیرات نے بتایا کہ جیل میں ہمیں انتہائی ضرورت کی اشیاء بھی فراہم نہیں کی جاتیں جس کی وجہ سے ہمیں یہ چیزیں جیل کی کینٹین سے خریدنا ہوتی ہیں، ہمیں کھانا کی مقدار بھی اتنی کم دی جاتی ہے جس سے پیٹ نہیں بھرتا، تاہم رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ہم سے کینٹین کی سہولت بھی واپس لے لی گئی ہے۔ بکیرات نے مزید بتایا کہ جیل میں موجود مریضوں کے ساتھ انتہائی غفلت کا معاملہ برتا جاتا ہے، انہوں نے بتایا کہ ان کے مرض کی غلط تشخیص اور غلط ادویات کی وجہ سے انہیں جلد کی خطرناک بیماری لاحق ہو چکی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
