بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ریزرو فوجیوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بینی گانٹز کا کہنا تھا کہ فوج کا حالیہ فیصلہ انتہائی مشکل تھا۔ مالی بحران کی وجہ سے کئے جانے والے فیصلوں میں مشقوں کی منسوخی سب سے مشکل فیصلہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ صہیونی سیکیورٹی ادارے خود کو درپیش عدیم النظیر مالی بحران پر قابو پانے کی سبیل تلاش کر رہے ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ فوج کو درپیش مالی بحران حل کرنے کی خاطر وہ متعلقہ اداروں سے مذاکرات کرنے جا رہے ہیں۔
اسرائیلی پبلک ریڈیو نے گذشتہ روز ریزرو فورس کے کمانڈر کا ایک بیان نشر کیا جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ان کی زیر کمان فورس نے دو برسوں سے کسی ہتھیار کو ہاتھ نہیں لگایا جس سے ان کی فوجی آپریشنل تیاریوں پر حرف آنے کا اندیشہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں دو مرتبہ ان کے فوجیوں کو جنگی مشقوں کی کال دی گئی مگر اسے آخری لمحے منسوخ کر دیا گیا۔ نیز ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گذشتہ چند مہینوں میں بہت سے نئے رنگروٹ دستے میں شامل ہوئے ہیں، ان کی بڑی تعداد سے مجھے براہ راست ملنے کا بھی موقع نہیں مل سکا۔
ریگولر فوج سے ریٹائرڈ ہو کر ریزرو فوج کا حصہ بننے والے متعدد اہلکاروں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، وزیر دفاع موشہ یعلون اور چیف آف آرمی سٹاف بینی گانٹز کے نام الگ الگ خطوط میں فوجی مشقوں میں کمی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس عمل کا تادیر جاری رہنا لبنان کی دوسری جنگ کا منظر دہرا سکتا ہے، جس میں اسرائیل کو منہ کی کھانی پڑی تھی۔
