اسرائیل نے فلسطینی سیاسی جماعتوں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” اور فتح کے مابین مفاہمتی مذاکرات اور قومی حکومت کی تشکیل کے اعلان پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔اسرائیل کے ایک سینیئر وزیر نے دھمکی دی ہے
کہ اگر حماس اور فتح نے مل کر قومی حکومت قائم کی تو اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر تیز کر دے گا۔
اسرائیلی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے صہیونی وزیر مواصلات "یسرائیل کاٹز” کا کہنا تھا کہ وہ حماس اور فتح کی جانب سے قومی حکومت کے قیام کے انتظار میں ہیں۔ جب انہوں نے قومی حکومت قائم کر لی تو اسرائیل مغربی کنارے کی یہودی بستیوں کو اسرائیل میں شامل کر دے گا۔
صہیونی وزیر کا کہنا تھا کہ فتح کا حماس کے ساتھ کسی قومی حکومت میں مل بیٹھنا اسرائیل کےساتھ کیے گئے تمام امن معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی ہوگی کیونکہ فلسطینی انتظامیہ نے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں میں یہ طے کیا ہے کہ وہ حماس کے ساتھ کسی سیاسی فریم ورک کا حصہ نہیں بنے گی۔ فتح نے اس طرح کی کوئی خلاف ورزی کی تو اسرائیل یہودی کالونیوں کو اپنے علاقوں میں شامل کر لے گا۔
ایک دوسرےسوال کے جواب میں مسٹرکاٹزکا کہنا تھا کہ وہ فلسطین میں حماس اور فتح کی قومی حکومت کے قیام کے بعد کے حالات کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں ایسی صورت میں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اپنے تعلقات منطقع کرنا بھی پڑ سکتے ہیں جس کے لیے وہ آجہی سے تیاری کر رہے ہیں۔
مسٹرکاٹز نے کہا کہ فلسطینی انتظامیہ مسلسل امن معاہدوں کی خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔ اسرائیل کے اصرار کے باوجود رام اللہ اتھارٹی فلسطینی ریاست کا معاملہ اقوام متحدہ میں لے گئی، جس سے خطے میں امن کی کوششیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

