مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصیٰ کے ڈائریکٹر الشیخ الکسوانی نے جمعہ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی پولیس فلسطینی شہریوں بالخصوص خواتین کے لیے قبلہ اول کے دروازے بند کر کے آگ سے کھیل رہی ہے۔ فلسطینیوں کو قبلہ اول میں عبادت سے روکنے کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں جن کی تمام ترذمہ داری اسرائیل پر عائد ہو گی۔
الشیخ الکسوانی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی پولیس ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت قبلہ اول میں فلسطینیوں کی آمد و رفت کو اپنے کنٹرول میں لے کر مقدس مقام پر اردن کی بالادستی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ اسرائیلی پولیس کا یہ اقدام بین مسجد اقصیٰ کے حوالے سے سنگین جرم ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اسرائیلی پولیس اپنی نام نہاد بالادستی کے نفاذ کے لیے خواتین کے مسجد اقصیٰ میں دن 11 بجے سے قبل داخلے پر پابندی لگا کر فلسطینی عوام میں اشتعال پیدا کر رہی ہے۔
الشیخ الکسوانی کا کہنا ہے کہ سنہ 1967ء کو مسجد اقصیٰ پر قبضے کے بعد اسرائیل کی جانب سے قبلہ اول کے حوالے سے جو نہایت خطرناک اقدامات کیے گئے وہ اس مقدس مقام کی زمانی اور مکانی اعتبار سے تقسیم کی سازش ہے۔ آج تک اسرائیل اس سازش کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہا ہے لیکن اب پولیس کی مدد سے اس سازش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ مسجد اقصیٰ پر اردن کی مذہبی نگرانی ختم کر کے اسے انتہا پسند یہودیوں کے لیے کھول دیا جائے۔
مسجد اقصیٰ کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پولیس بے مسجد اقصیٰ کے 8 میں سے 4 مرکزی دروازے الاسباط، السلسلہ، الناظر اور حطہ بند کرنے کے ساتھ ساتے دن 11 بجے تک فلسطینی خواتین کے قبلہ اول میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے تاکہ دن کے پہلے حصے میں انتہا پسند یہودیوں کے قبلہ اول میں داخلے کی راہ ہموار کی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی پولیس نے من مانی کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے کو صرف یہودیوں کی آمد ور رفت کے لیے مختص کر رکھا ہے اور فلسطینیوں کو اس دروازے سے قبلہ اول میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ آج جمعہ کو بھی یہودی فوجیوں نے 56 یہودی آباد کاروں کو اسی دروازے سے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کی اجازت فراہم کی۔
درایں اثناء مفتی اعظم فلسطین اور مسجد اقصیٰ کے خطیب الشیخ عکرمہ صبری نے فلسطینی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ بازاروں میں فلسطینی مصنوعات کے ہوتے ہوئے اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی مصنوعات خرید کر صہیونی ریاست کی معیشت کو مضبوط کرنا دراصل خود اپنے دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے فلسطینی عوام جہاں بھی نوجود ہیں وہ اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔
