مسجد اقصیٰ کے امام اور خطیب اور ممتاز فلسطینی عالم دین لشیخ یوسف ابو سنینہ نے بیت المقدس کو فوجی چھاونی میں تبدیل کرنے اورفلسطینی شہریوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے داخلے سے روکنے کی صہیونی سازشوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی شہریوں کو قبلہ اول میں داخل ہونے سے روکنا اسرائیل کی مذہبی دہشت گردی ہے جو فلسطینی عوام پر مسلط کی گئی ہے۔
نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے الشیخ ابو سنینہ کا کہنا تھا کہ قبلہ اول میں تمام فلسطینی عبادت کے لیے آتے ہیں۔ مسجد میں داخلے کے لیے نمازیوں کی عمر کی حد متعین کرنے کا کیا جواز ہے۔ انہوں نے یہودیوں کے مذہبی تہواروں اور عبرانی سال نو کے موقع پر یہودی شرپسندوں کی قبلہ اول پر یلغار کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہودی دانستہ طور پر مسجد اقصیٰ میں کشیدگی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہودی آبا کاروں کے دھاووں کی وجہ سے قبلہ اول محصور ہو کر رہ گیا ہے اور فلسطینی شہریوں کو اس مقدس مقام تک رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔
الشیخ ابو سیننہ نے بیت المقدس میں اسپتالوں میں فلسطینی باشندوں کے ساتھ برتے جانے والے غیرمنصفانہ سلوک کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ اسپتالوں میں فلسطینیوں کے ساتھ تیسرے درجے کی مخلوق کا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ بیت المقدس کے اسپتالوں میں فلسطینی شہریوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
مسجد اقصیٰ کے امام و خطیب نے فلسطینی عوام پر زور دیا کہ وہ یہودیوں کے دھاووں اور اسرائیلی فوج اور پولیس کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں کی پرواہ کیے بغیر قبلہ اول سے اپنا تعلق مزید مضبوط بنائیں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کو تحفظ دلانے میں سرگرم فلسطینی محکمہ اوقات سے بھی ہر ممکن تعاون کریں تاکہ ناپاک صہیونیوں کو قبلہ اول میں داخل ہونے سے روکنے کی راہ نکالی جاسکے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
