ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف کی جانب سے جاری ایک بیان کی نقل ترک خبر رساں ایجنسی’’اناطولیہ‘‘ کو بھی موصول ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ معاہدہ روم کے بنیادی ڈھانچے کے چیئرمین صدیقی کابا نے فلسطینی ریاست کی جانب سے درخواست کا خیر مقدم کیا ہے۔ عالمی عدالت انصاف فلسطین کو معاہدہ روم کا حصہ قرار دینے کا اعلان کرتی ہے اور اس کے بعد مرحلہ وار فلسطین کو عدالت کے تمام اداروں میں شامل کرنے کے ساتھ عدالت کی خصوصی مراعات بھی حاصل ہو جائیں گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے دی گئی درخواست معاہدہ روم کے بنیادی ڈھانچے میں شامل 123 ممالک اور عدالت کے خصوصی امتیازات اور اس کے تحفظ کمیٹی میں شامل 74 ممالک تک پہنچائی جائے گی۔
خیال رہے کہ عالمی عدالت انصاف کے معاہدے میں ایسے 49 ممالک شامل ہیں جنہیں باضابطہ طور پر رکن نہیں بنایا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے معاہدہ روم پر دستخط کر رکھے ہیں۔
صدیقی کابا کا کہنا ہے کہ معاہدہ روم کا حصہ بن جانے کے بعد کسی بھی ملک کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے چارہ جوئی کی اجازت حاصل ہو جاتی ہے۔ ہم فلسطین کی جانب سے معاہدہ روم میں شامل ہونے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ کل بدھ کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی فلسطینی اتھارٹی کی جانب
سے معاہدہ روم اور بین الاقوامی کریمینل کورٹ میں شمولیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ چھ جنوری 2015ء سے فلسطین کی شمولیت کا عمل شروع ہوگا۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے یکم جنوری کو اقوام متحدہ کی عدالت انصاف میں شمولیت کے
لیے درخواست دی گئی تھی جو چھ جنوری کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون تک پہنچائی گئی۔
فلسطین میں بین الاقوامی قوانین کے ماہر تجزیہ نگار عبدالکریم شبیرنے اناطولیہ خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ روم کی جانب سے فلسطین کی درخواست منظورکرنا معمول کا حصہ ہے۔ معاہدہ روم میں شمولیت کے بعد 60 دن کے اندر اندر عالمی عدالت انصاف فلسطین کومکمل رکن کا درجہ دے سکتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
