مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ درخواست نومبر میں صہیونی جنگی طیاروں سے مشرقی غزہ کی زرعی اور زیر کاشت اراضی پر کیڑے مار ادویات کے اسپرے کے نتیجے میں فصلیں بڑے پیمانے پر تبادہ ہوگئی تھیں جس پر کسانوں نے دو طرفہ سہولت کاروں کے ذریعے نہ صرف احتجاج کیا بلکہ آئندہ سے فصلوں کو ایسا نہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ فلسطینی حکام کی جانب سے اس کے جواب میں ایک ماہ کے بعد یہ مطالبہ سامنے آیا کہ غزہ حکام اسرائیلی فوجیوں کو کھیتوں میں کام کرنے والے کسانوں سے پوچھ تاچھ کرنے اور ان سے فصلوں کو نقصان پہنچانے اور دیگر مضر کیڑوں کے بارے میں معلومات کے حصول کی اجازت دے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ فلسطینی کسانوں کی متاثرہ سبزی اور فصلوں کے کچھ نمونے بھی ارسال کیے جائیں تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ گولہ باری سے سبزیاں کس طرح متاثر ہوتی ہیں۔
فلسطینی حکومتی ذریعے نے اسرائیلی فوج کا کسانوں سے پوچھ تاچھ اور ان سے راہ رسم بڑھانے کا مطالبہ یکسر مسترد کردیا ہے اور کہا گیا ہے کہ کسانوں سے پوچھ گچھ سیکیورٹی کے حوالے سے نہایت خطرناک ہوسکتا ہے البتہ وہ متاثرہ سبزی کے نمونے صہیونی فوجیوں کو ارسال کریں گے۔
خیال رہے کہ نومبر میں صہیونی فوجیوں نے مسلسل تین روز تک ہوائی جہازوں کی مدد سے کیڑے مار اسپرے کے چھڑکاو کی آڑ میں فلسطینیوں کی کھیتوں میں موجود فصلیں اور سبزیاں بری طرح متاثر ہوئی تھیں۔ مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ اسپرے کے زہریلے اثرات زمین میں 1500 میٹر گہرائی تک پہنچے ہیں جس کے نتیجے میں 600 ایکڑ رقبے پر پھیلی سبزیاں جل کر خاکستر ہوگئی تھیں۔
