اسرائیلی اعلی سیاسی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کے روزعمان میں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ چھٹی ناکام ملاقات کے بعد اسرائیل نے مذاکرات بحالی کے لیے بیرونی قوتوں سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔
اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے مابین مذاکرات کا سلسلہ ڈیڑھ سال قبل اس وقت تعطل کا شکار ہو گیا تھا جب فلسطینی اتھارٹی نے دس ماہ کی جزوی پابندی کے ختم ہوتے ہی اسرائیل کی جانب سے نئی بستیوں کی تعمیر دوبارہ شروع کر دی گئی تھی۔
چند ہفتے قبل اردنی وزیر خارجہ کی خصوصی کوششوں سےمذاکرات بحالی کے لیے عمان میں فریقین کے مابین ملاقاتوں کا اہتمام کیا گیا تھاتاہم ان ملاقاتوں کے دوران بھی راست مذاکرات بحال کرنے پر اتفاق نہ ہو سکا۔ فلسطینی اتھارٹی باقاعدہ مذاکرات کے آغاز سے قبل مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کا مطالبہ کرتی رہی تو اسرائیل مذاکرات بلا مشروط طور پر بحال کرنے کی رٹ لگائے رہا۔
خیال رہے کہ مشرق وسطی میں چار عالمی قوتوں پر مشتمل ثالثی گروپ نے اسرائیل اور فلسطین کو مذاکرات کی بحالی اور سکیورٹی کے حوالے سے شرائط طے کرنے کے لیے چھبیس جنوری تک مہلت دی تھی جو آج ختم ہو گئی ہے۔
اسرائیلی ریڈیو نے جمعرات کے روز اسرائیلی ذرائع کے حوالےسے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے درپردہ یورپی اور دیگر ممالک سے فلسطین کو دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار کرنے کے لیے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ خیال رہے کہ اسرائیل گزشتہ دنوں یہ اعلان کرتا رہا ہے کہ مذاکرات بحالی کی ڈیڈ لائن چھبیس جنوری کے بجائے چھ اپریل ہے۔
اسرائیلی ذرائع نے اس ضمن میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے بھی رابطے کر کے انہیں اگلے ہفتے خطے کا دورہ کرنے اور فلسطینی اتھارٹی پر مذاکرات بحال کرنے کا دباؤ بڑھانے کا پیغام دیا ہے۔

