خیال رہے کہ ڈاکٹر عزیز دویک کو پچھلے سال وسط جون میں الخلیل شہر سے اس وقت حراست میں لے لیا گیا تھا جب وہاں پرتین یہودی لڑکے اچانک لاپتا ہوگئے تھے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ڈاکٹر عزیز دویک کی اسرائیلی جیل سے رہائی پر غزہ کی پٹی میں پارلیمنٹ کےخصوصی اجلاس میں ان کی خدمات کو سراہا گیا۔ اس موقع پر پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر احمد بحر نے ڈاکٹر دویک کی رہائی کو صہیونی مظالم کے خلاف فلسطینی عوام اور پارلیمنٹ کی فتح قرار دیا۔
انہوں نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ حراست میں رکھے گئے تمام دیگر ارکان کی رہائی کا فیصلہ کریں۔ ڈاکٹر بحر نے فلسطینی ارکان پارلیمنٹ کی گرفتاری اور ان کی اسرائیلی جیلوں میں بندش کی شدید الفاظ میں مذمت کی اوراسے جمہوری دنیا کے لیے باعث عار اور عالمی برادری کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ قراردیا۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے سنہ 2006 ء کے پارلیمانی انتخابات کے بعد منتخب ہونے والے درجنوں فلسطینی ارکان پارلیمنٹ کو حراست میں لے لیا تھا۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق حماس کے ساتھ تھا اور ان میں سے 11 ابھی تک اسرائیلی جیلوں میں بدستور پابند سلاسل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
