فلسطینی صدر محمود عباس کا اسرائیلی ٹی وی کو پچھلے جمعہ کے روز دیا گیا انٹرویو ملک کے سیاسی حلقوں میں سخت تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ فلسطین کی سیاسی جماعتوں کے بعد پارلیمنٹ
نے بھی فلسطینیوں کے حق واپسی کی نفی بارے محمود عباس کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے صدر کے مواخذے کا مطالبہ کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی مجلس قانون ساز کا غزہ کی پٹی میں پیر کے روز ہوا۔ اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر احمد بحرنے کی۔ اجلاس میں صدر محمود عباس کے عبرانی ٹی وی کو دیے گئے اس بیان پرتفصیلی تبادلہ خیال ہوا جس میں صدر عباس کا کہنا تھا کہ وہ فلسطین میں اسرائیل کےخلاف کوئی تیسری انتفاضہ شروع نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے فلسطینی تحریک آزادی کو دہشت گردی سے تعبیر اور کیا لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں میں فلسطینی واپس جانا چاہتے ہیں وہ اب اسرائیل کا حصہ ہیں۔ فلسطینی ریاست صرف غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں قائم ہوگی۔
مجلس قانون ساز کے اجلاس میں صدر محمود عباس کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ بعد ازاں میڈیا کے لیے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ صدر عباس نے اسرائیلی ٹی وی دیے گئے انٹرویو میں حق واپسی کی نفی کرکے قوم کے حق میں سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ جس پرصدر کا مواخذہ ہونا چاہیے۔
اجلاس کے اختتام پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکرڈاکٹر احمد بحر نے کہا کہ صدرمحمودعباس صہیونی دشمن کی زبان میں بات کرتے ہیں۔ انہوں نے فلسطینیوں کے حق واپسی کی صریح الفاظ میں نفی کرکے قوم کی نمائندگی کا جواز کھو دیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
