انسانی حقوق کی سرگرم تنظیم ”التضامن فاؤنڈیشن” کے مطابق اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے صدر مقام رام اللہ کے مغربی گاؤں بدرس پردھاوا بولا اور ایک گھر پر چھاپہ مار کر ایک نوجوان کو گرفتار کرلیا ہے۔
گاؤں کے رہائشی صدقی عوض نے فاؤنڈیشن کو بتایا کہ اتوار کی علی الصبح پچاس سے زائد اسرائیلی انفنٹری کے اہلکاروں نے مختلف اطراف سے گاؤں پر دھاوا بولا، اور سدھائے گئے کتوں کے ہمراہ ان کے بھائی کے گھر پر حملہ کردیا، اہلکاروں نے گھر میں موجود سامان کی توڑ پھوڑ کی اور ان کے انیس سالہ بھائی عبد الرحیم احمد عوض کو گرفتار کرلیا۔
تخریب کاری کی یہ کارروائی دو گھنٹے جاری رہی۔اس دوران اہل خانہ اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان زبردست جھڑپ ہوئی۔ صہیونی فوجیوں نے گھر والوں کے خلاف زہریلی گیس کا استعمال کیا، اسرائیلی اہلکار گنوں کے بٹوں اور مزاحمت کرنے والے افراد کو مارتے رہے۔ جس سے عبد الرحیم کی چار بہنیں شدید زخمی ہوگئیں جنہیں بعد ازیاں رام اللہ ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ جس وقت اسرائیلی فوجی عبد الرحیم کو گرفتار کرکے لے جا رہے تھے وہ مکمل طور پر بے ہوش تھا اور بری طرح زخمی ہو چکا تھا۔ اس موقع پر گاؤں کے باسیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان بھی جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ اہالیان گاؤں نے عبد الرحیم کی گرفتاری پرشدید احتجاج کیا اور صہیونی فوج پر پتھراؤ شروع کردیا جس کے جواب میں فوجی اہلکاروں نے فائرنگ شروع کردی اور مظاہرین کو منتشر ہونا پڑا۔
یاد رہے کہ گرفتار کیے جانے والا نوجوان چار ماہ قبل اسرائیلی فائرنگ کی زد میں آکر شہید ہونے والے سمیر عوض کا بھائی ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
