رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے حفاظتی جیکٹیں نہ صرف فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو دی گئی ہیں بلکہ عام شہریوں اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کو بھی مہیا کی گئی ہیں تاکہ وہ اپنے رپوٹروں اور دیگر ابلاغی عملے کی حفاظت کے لیے انہیں استعمال کرسکیں۔ مگر یہ جیکٹیں کہیں بھی کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔
حال ہی میں مشتعل مظاہرے کےکوریج کے دوران اپنی جیکٹ مظاہرین کے ہاتھوں تڑوا دی۔ نامہ نگار نے بعد ازاں رپورٹ میں ایک دوسرے صحافی نے اعتراف کیا کہ فوج کی جانب سے یہودیوں میں تقسیم کی گئی جیکٹیں حفاظتی نقطہ نظر سے کامیاب ثابت نہیں ہوئی ہیں۔
نامہ نگار کا کہنا تھا کہ فلسطینی چاقو بردار کے حملے میں اس کے ساتھ رپورٹر کی حفاظتی جیکٹ تار تار ہوگئی اور چاقو اس کے جسم میں گھس گیا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ یہودیوں کو بچاؤ کے لیے دی گئی حفاظتی جیکٹیں بھی بے کار ثابت ہوئی ہیں۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیل کی ایک ’’ایف ایم ایس میگون‘‘ نامی ایک کمپنی نے یہودی آباد کاروں کے لیے فلسطینی شہریوں کے چاقو سے حملوں کے بچاؤ کے لیے مکمل لباس بھی تیار کیا گیا ہے مگروزن میں بھاری ہونے کی بناء پر یہ لباس زیادہ مقبولیت حاصل نہیں کرسکا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے فوج کے ذریعے یہودیوں میں حفاظتی جیکٹیں تقسیم کرکے ان کے بچاؤ کا تجربہ کیا مگر وہ بھی ناکام ثابت ہوا ہے۔
خیال رہے کہ یہودی آباد کاروں میں حفاظتی جیکٹیں ایک ایسے وقت میں تیار کی گئی ہیں جب فلسطین میں جاری تحریک انتفاضہ کے دوران فلسطینیوں کی انفرادی مزاحمتی کارروائیوں میں 27 صہیونی ہلاک اور 350 سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔
