مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کمیٹی برائے اسیران کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ عتصیون جیل میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ نہایت غیرانسانی اور غیر اخلاقi طریقوں سے تفتیش کی جاتی ہے۔ قیدیوں کو ایک دوسرے کے سامنے مکمل طور پر لباس اتار کر ننگا ہونے اور گھنٹوں اسی کیفیت میں لائنوں میں کھڑا رکھا جاتا ہے۔
انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ جیل میں روزانہ صبح اور شام کو قیدیوں کی گنتی کے عمل کے دوران انہیں ان کے کمروں سے باہر نکالتے ہوئے انہیں فحش گالیاں دی جاتی ہیں۔ انہیں نہایت بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے ساتھ ان کے کپڑے تک اتار دیے جاتے ہیں۔ سخت سردی کے موسم میں قیدیوں کو رات بھر نیم عریاں حالت میں ان کے کمروں میں رکھا جاتا ہے۔ قیدیوں کو جیل کی کینٹین سے اشیائے صرف کی خریداری کی اجازت نہیں اور دن کو دو گھنٹے کے لیے کمروں سے باہر نکل کر چہل قدمی کا وقفہ بھی ختم کردیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کمیٹٰی کا کہنا ہے کہ صہیونی جیلروں کے بہیمانہ تشدد اور ناروا سلوک سے نہ صرف قیدی سخت تنگ ہیں بلکہ مسلسل سردی میں انہیں ننگا رکھنے سے بیماریوں کا شکار ہونے لگے ہیں۔ ان کے گھروں کی طرف سے لائے جانے والے گرم کپڑے یا تو واپس کردیے جاتے ہیں یا انہیں ضبط کیے جانے کے بعد یہودی جیلروں کو دے دیا جاتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
