اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے مسجد اقصی کی راہداریوں میں لگائے گئے تعلیمی حلقوں کی شرکاء طالبات کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران مسجد اقصی پر متعدد دھاوں اور نمازیوں پر تشدد کرنے کے بعد صہیونی فورسز نے اب مسجد کے تعلیمی حلقوں کو ختم کرنے کی کوشش شروع کر دی۔
اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے مسجد اقصی کے تمام دروازے بند کر دیے اور مسجد اقصی میں داخل ہونے والے تمام افراد کی کڑی نگرانی شروع کر دی ہے۔ صہیونی اہلکاروں نے شناخت کے بعد کسی بھی طالبہ کو مسجد میں داخل نہ ہونے دیا۔
اقصی فاؤنڈیشن نے بتایا کہ اس اسرائیلی اقدام کے بعد طالبات مسجد اقصی کے اسباط دروازے پر جمع ہو گئیں اور مسجد اقصی کے اس قریب ترین مقام پر تعلیم و تعلیم کا عمل شروع کر دیا، ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے کم از کم تیس طالبات کو مسجد میں جانے سے روکا، اسرائیلی فوجیوں نے سات طالبات کے شناختی کارڈ قبضے میں لے کر انہیں پوچھ گچھ کے لیے تفتیشی مرکز بھی طلب کر لیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کی بڑی تعداد نے مسجد اقصی پر دھاوا بولا اور مسجد کے مسقوف حصے میں گھس کر اس کا تمام اطراف سے جائزہ لیا۔ اسرائیلی فوج کے ان حالیہ حملوں کے بعد مسجد اقصی اور مقدس مقامات کی تعمیراتی فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حکمت نعامنہ نے کہا کہ حالیہ صہیونی جارحیتیں مسجد اقصی کو زمانی اعتبار سے مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان تقسیم کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
انہوں نے طلب علم کے لیے مسجد میں آنے والی طالبات کے مسجد میں داخلے پر پابندی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بھرپور طریقے سے یہ آواز بلند کریں کہ مسجد اقصی خطرے میں ہے۔ اس نازک مرحلے پر ہم سب کا فرض ہے کہ مسجد اقصی کا رخ کریں بالخصوص صبح کے اوقاف میں مسجد کی راہداریوں کے تعلیمی حلقوں میں شرکت کو یقینی بنایا جائے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
