اسرائیل کی عدالت نے "الجلمہ” اور "سالم” جیلوں میں زیرحراست سماجی کارکن عدنان حمارشہ اور ان کی اہلیہ ریم حمارشہ کی مدت حراست میں بارہ دن کی توسیع کر دی ہے۔
محروس سماجی رہ نما حمارشہ کے اہل خانہ نے "مرکز اطلاعات فلسطین” کے نامہ نگار کو بتایا کہ اسرائیلی عدالت نے انسانی حقوق کے مندوب برائے اسیران کے کیس کی سماعت الجلمہ عدالت میں کی گئی جبکہ ان کی اہلیہ چالیس سالہ ریم حمارشہ کے مقدمہ کی سماعت مغربی جنین میں قائم سالم عدالت میں ہوئی۔
محروسین کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عدنان یاسین حمارشہ اور ان کی اہلیہ کےخلاف صہیونی حکام کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت بھی نہیں ہے۔ان پر اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” سے تعلق کا بھونڈا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اہل خانہ کا کہنا تھا کہ صہیونی عدالتوں میں جب گذشتہ روز دونوں اسیر میاں بیوی کو پیش کیا گیا تو دونوں کی طبی حالت بھی تشویشناک تھی۔ ریم حمارشہ کو بار بار بےہوشی کے دورے پڑ رہے تھے۔
خیال رہے کہ صہیونی فوج نے فلسطینی سماجی کارکن میاں بیوی کو اردن سے واپسی پر 16 فروری کو حراست میں لیا تھا۔ عدنان اپنی مریض اہلیہ کے علاج کے لیے اردن گئے تھے۔ انہوں نے صہیونی حکام کو اس کے میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی دکھائے تاہم اس کے باوجود صہیونی فوجیوں نے انہیں حراست میں لے کرجیل میں بند کر دیا۔
عدنان یاسین حمارشہ ماضی میں بھی اسرائیلی جیلوں میں قید رہ چکے ہیں۔ مجموعی طور پر ان کی اسیری کی مدت ساڑھے دس سال بتائی جاتی ہے۔ وہ فلسطین میں اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے کے سربراہ ہیں اور فلسطینیوں کے سماجی حقوق کے سرگرم رکن ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
