اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف مظالم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے نابلس سے رکن پارلیمان شیخ حامد بیتاوی کے بیٹے اور ایک صحافی کو گرفتار جبکہ بیت لحم میں ایک فلسطینی کا گھر منہدم کرڈالا، ادھر گنجان فلسطینی آبادیوں پر بمباری کے لیے صہیونی فوج کا ایک خصوصی یونٹ تشکیل دے دیا گیا ہے۔
فلسطینی ذرائع نے ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کے نمائندے کو بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج نے شہر کی مشرقی کالونی پر رات دو بجے کے قریب صحافی محمد منی کے گھر پر دھاوا بولا اور ان کے بارے میں پوچھا اور پھر انہیں حراست میں لے لیا۔ اسی کالونی سے شیخ حامد بیتاوی کے بیٹے فضل بیتاوی کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی اہلکاروں نے اپنے اس دھاوے میں کالونی کے دیگر گھروں میں بھی گھس کرتوڑ پھوڑ کی اور اس دوران متعدد دیگر افراد کو بھی حراست میں لے لیا۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی اہلکاروں نے جان بوجھ کر اس بجلی کے کھمبے کو گرایا جس سے سارے علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔
ادھر اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں پر حملوں کے لیے اپنی فوج کی استعداد میں اضافہ جاری رکھتے ہوئے گنجان آبادیوں پر ہدف کو درست طور پر نشانہ بنانے والے راکٹوں کو آپریٹ کرنے کے لیے ایک خصوصی یونٹ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی روزنامے ’’ھارٹز‘‘ نے اپنی منگل کی اشاعت میں بتایا کہ اسرائیلی فوج اپنے اس نئے بریگیڈ کے ذریعے فلسطینی رہائشی علاقوں پر بمباری کرنے کا کام مستعدی سے سرانجام دے گی۔

اخبار نے بتایا کہ اس سے پہلے اسرائیلی فوج اپنے کسی ہدف پر بمباری سے قبل شہریوں کو اعلان کے ذریعے کسی جگہ اکٹھا ہونے سے روکتی ہے۔ تاہم فلسطینی عام شہریوں کی بڑی تعداد کے ہدف کے اطراف جمع ہو جانے کے باعث اسرائیلی فوج کو اس ہدف کو نشانہ بنانے سے گریز کرنا پڑتا ہے۔ تاہم اس نئے یونٹ کی تشکیل کے بعد انتہائی مستعدی کے ساتھ کسی گنجان آبادی میں بھی ہدف کا ٹھیک طریقے سے نشانہ لیا جا سکے گا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

