مقبوضہ بیت المقدس کی ایک اسرائیلی عدالت نے الخلیل کے آٹھ فلسطینی دیہات پر اسرائیلی فوج کا قبضہ منسوخ کروانے کے لئے دائر کی گئی پیٹیشن مسترد کردی۔
الخلیل کے جنوبی علاقے مسافر یطا کے رہائشیوں نے علاقے پر اسرائیلی فوج کے قبضے اور 8 گائوں کو مسمار کرنے کے فیصلے پر عدالت میں پٹیشن دائر کی تھی تاکہ اس فیصلے پر عمل درآمد رکوایا جاسکے۔ 59 سالہ حاحی زیاد مخامرہ نے مرکز اطلاعات فلسطین کے نمائندے کو بتایا کہ عدالت نے اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک کے 8 دیہات کو ضبط اور مسمار کرنے کے فیصلے کو واپس لینے سے انکار کردیا ہے۔
مخامرہ نے کہا کہ اسرائیلی سپریم کورٹ کے صدر نے یہ مشورہ دیا ہے کہ علاقے کے رہائشی کسی ریٹائرڈ جج کی ثالثی میں حکام کے ساتھ مذاکرات کریں تاکہ کوئی قابل حل راستہ تلاش کیا جاسکے۔ انہوں نے مزید بتای کہ فوجی استغاثہ نے چیف جج کا یہ مشورہ فوری طور پر مسترد کردیا اور وزیر دفاع کے فیصلے پر جلد از جلد عمل درآمد کرنے کا اصرار کیا۔ فوجی استغاثہ کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع کے فیصلے کو منسوخ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ فوجیوں کو کہیں دور جا کر ٹریننگ کرنا ہوگی جس سے اسرائیلی فوج کا وقت اور پیسہ ضائع ہوگا۔
مسافر یطہ کے رہائشیوں نے اپنی زمین کے ساتھ اپنے گہرے تعلق پر زور دیا اور اس فیصلے کی منسوخی تک اس زمین کے دفاع کا عزم کیا۔ مسافر یطا کے علاقے میں 500 فلسطینی رہائش پذیر ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے 2012 میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ ان آٹھ دیہات کو خالی کروا کر یہاں پر اسرائیلی فوج کی مشقیں کروائی جائیں گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
