فلسطینی سیاسی جماعت الفتح کی مرکزی کمیٹی کے سابق رکن اور سابق صدر یاسرعرفات کے دست راست ھانی الحسن جمعہ کے روز اردن میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر تہتر برس تھی۔
ھانی الحسن سابق فلسطینی حریت پسند لیڈر اور تحریک الفتح کے بانی رہ نما یاسرعرفات مرحوم کے ان قریبی ساتھیوں میں شامل تھے جن کی کوششوں سے الفتح کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ بعد ازاں ھانی الحسن الفتح کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور جماعت کی شوریٰ کے بھی ممبر رہے ہیں۔ جرمنی اور یورپی ممالک میں الفتح کی شاخوں کے قیام میں بھی ھانی سالحسن کا کلیدی کردار سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے الفتح کو یورپ اور عرب ممالک میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
یاسرعرفات کے دور میں ھانی الحسن الفتح کی مرکزی کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین اور جماعت کے خارجہ امور کے بھی نگران رہے ہیں۔ مرحوم ھانی الحسن اور یاسرعرفات کے درمیان تنظیم آزادی فلسطین کی تشکیل اور اسرائیل کے ساتھ طے پائے اوسلو معاہدے پر سخت اختلافات بھی رہے ہیں۔ ھانی نے یاسرعرفات کی جانب سے اسرائیل کےساتھ امن معاہدہ کرنے کی مخالفت کی تھی۔ تاہم اس کے باوجود وہ سابق فلسطینی صدر کے وفادار ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔
مرحوم ھانی الحسن نے انجینیئرنگ کی تعلیم جرمنی سے حاصل کی۔ بعد ازاں ابلاغ عامہ میں انہوں نے روس سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ سنہ 1995ء میں انہیں الفتح کی مرکزی کمیٹی کا رکن منتخب کرنےکے بعد جماعت کے خارجہ امور کا نگراں مقرر کیا گیا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
