فلسطین کی مشہور مصنفہ اور قلم کار مریم فرحات المعروف ام نضال کی زندگی اور ان کی خدمات کے بارے میں "تیر اور تلوار” کے نام سے ایک افسانہ شائع کیا گیا ہے جس کے لیے فلسطینی مجلس قانون ساز کے ارکان سے دستخط حاصل کیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ مریم فرحات فلسطین کی ایک جانی پہچانی ادیبہ، مصنفہ اور تحریک آزادی کی ایک بہادر مجاہدہ سمجھی جاتی رہی ہیں۔ وہ گذشتہ برس انتقال کرگئی تھیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق کل بدھ کے روز غزہ کی پٹی میں فلسطینی مجلس قانون ساز میں مریم فرحات کی زندگی پر لکھے گئے افسانے کے لیے دستخطی مہم کا آغاز نائب وزیراعظم انجینیئر زیاد الظاظا نے کیا، جس کے بعد کئی دوسرے ارکان اسمبلی نے بھی اس پر دستخط کیے۔ افسانے پر دستخط کرنے والوں میں پارلیمنٹ کے ارکان کے علاوہ فلسطین کے کئی دوسرے سیاسی وسماجی اور مذہبی رہ نماؤں اور سول سوسائٹی کی اہم شخصیات نے بھی دستخط کیے ہیں۔ خیال رہے کہ مریم فرحات المعروف ام نضال کی زندگی پر یہ افسانہ فلسطینی وزیر ڈاکٹر عطاء اللہ حنا نے تحریر کیا ہے جبکہ اس پر تنقیدی نظر معروف اسکالر ڈاکٹر عبدالخال العف نے ڈالی۔
مریم فرحات کی زندگی پر لکھے گئے ناول کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے فلسطینی مجلس قانون ساز کے ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر احمد بحر نے کہا کہ مریم فرحات صرف مصنفہ ہی نہیں بلکہ وہ ایک مجاہدہ بھی تھیں۔
انہوں نے قلم کے ذریعے فلسطینی قوم کے لیے جہاد کیا۔ ان کی زندگی، اخلاق، قربانی اور شوق شہادت جیسی خوبصورت اقدار اور خوبیوں سے بھرپور تھی۔
اس موقع پر فلسطینی وزیر انصاف اور کتاب کے مصنف ڈاکٹر عطاء اللہ ابو السبح نے کہا کہ مجھے ام نضال جیسی مجاہدہ کی زندگی پر کتاب لکھنے پر فخر ہے۔ ام نضال واقعی ایک مجاہدہ تھیں اور انہوں نے پوری زندگی قلم کے ذریعے جہاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ام نضال نے یکے بعد دیگرے اپنے تین بیٹے فلسطین کی آزادی پر نچھاور کیے اور ایسی دل گردے والی مائیں بھی بہت کم ہوتی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
