فلسطینی اتھارٹی نے حماس کے وفد کواسرائیلی قید سے رہائی پانے والے اسیران کا رام اللہ پہنچنے پر استقبال کرنے سے روک دیا۔ حماس نے اقدام کو امتیازی اور شرمناک سلوک قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
یاد رہے بدھ کے روز شروع ہونے والے نام نہاد امن مذاکرات کی بحالی سے پہلے اسرائیل کے 26 فلسطینی اسیران کو جذبہ خیرسگالی کے طور پر رہا کیا تھا۔
حماس کے مرکزی رہ نما الشیخ جمال الطویل نے "مرکزاطلاعات فلسطین” کو بتایا کہ وہ تنظیم کے لیڈرالشیخ حسین ابو کویک کے ہمراہ رہائی پانے والے فلسطینی اسیران کے استقبال کے لیے رام اللہ ہیڈ کواٹر کے مرکزی گیٹ پر پہنچے جہاں متعین سیکیورٹی اہلکاروں نے ان کے شناختی کارڈ ضبط کر لیے۔
تقریبا آدھ گھنٹہ انہیں وہاں کھڑا رکھنے کے بعد بتایا گیا کہ ہمیں اوپر سے ہدایت ہے کہ حماس کے وفد کو اسیران کے استقبالیہ گیٹ سے آنے سے روک دیا جائے اور اگر حماس کے رہ نما اصرار کریں تو انہیں عام شہریوں کے لیے لگائے گئے پنڈال میں لے جایا جائے۔
شیخ جمال الطویل کا کہنا تھا کہ عباس انتظامیہ کا قوم کی نمائندہ جماعت کے وفد کو اپنے ہم وطنوں کے استقبال سے روکنا نہایت شرمناک اقدام اور امتیازی سلوک کا مظہر ہے۔ رام اللہ اتھارٹی کے ہیڈ کواٹر پر کسی مخصوص گروپ کی اجارہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کا یکساں نمائندہ ادارہ ہے، جس پر تمام فلسطینی تنظیموں کا حق بھی یکساں ہے۔
خیال رہے کہ امریکا کی سرپرستی میں حال ہی میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات کی بحالی کے آغاز میں اسرائیلی حکومت نے طویل عرصےسے زیرحراست ایک سو فلسطینی اسیران کو رہا کرنےکا فیصلہ کیا تھا۔ اسی فیصلے پرعمل درآمد کرتے ہوئے گذشتہ روز صہیونی فوج نے 26 فلسطینیوں کو رہا کیا تھا۔ لمبی قید کے بعد رہائی پانے والے فلسطینیوں کا رام اللہ اتھارٹی کے ہیڈ کواٹر میں پرتپاک استقبال کیا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
