فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے فلسطینی اتھارٹی سے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر براک اوباما کے متوقع دورے کے چکمے میں نہ آنے اور انہیں اپنا کام جاری رکھنے کو کہا۔
ھنیہ نے کہا کہ "ہم ماضی کے تمام تجربات کی بناء پر اس بات پر قائل ہیں کہ یہ دورہ بھی ہمارے لوگوں کے حق میں کوئی پیش رفت نہ کر سکے گا اور نہ ہی قابض حکام کے ساتھ تنازعہ کو صحیح پٹڑی پر لاسکے گا۔”
وزیراعظم نے اپنے یقین کا اظہار کیا کہ اوباما کا دورہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان فضول کے امن مذاکرات دوبارہ شروع کر دے گا اور حماس اور فتح کے درمیان جاری مفاہمتی مذاکرات کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ قابض اسرائیلی حکومت کے ساتھ تصادم کے نئی مرحلے کا سامنا کر رہے ہیں جس میں مسجد اقصیٰ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسرائیل، امریکا اور مغربی طاقتوں کے اتحاد کے ساتھ یروشلم کو صہیونیت کے رنگ میں رنگتے ہوئے اس کی تاریخ مٹانا چاہتا ہے۔
اسی تناظر میں فلسطینی نوجوانوں کے اتحاد "وقار کے لئے فلسطینی” نے فلسطینیوں کو اوباما کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے دورے اور فلسطینی اتھارٹی کا اسرائیل کے ساتھ بے نتیجہ امن مذاکرات شروع کرنے کی خواہش کے خلاف سڑکوں پر آ جانے کے لئے کہا۔
وقار کے لئے فلسطینیوں نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ”اس بات کا یقین کرنا نادانی ہو گا کہ امریکا کی اسرائیل کے لئے پالیسی اوباما کے دور اقتدار کے دوران بدل گئی ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ” مارچ 2012 میں امریکی کانگرس نے ایک رپورٹ میں مطالبہ کیا تھا کہ اسرائیلی کو سال 2013 میں صرف آئرن ڈوم سسٹم کو چلانے کے لئے 3٫1 بلین ڈالر امداد دی جائے، جو کہ 1949 سے اسرائیل کے لئے امریکی امداد کو 115 بلین ڈالر کی سطح پر لے آتا ہے”
نوجوانوں کے گروپ نے مزید بتایا کہ اوباما کا دورہ اسرائیل پر بین الاقوامی دباو کو کم کرنے اور اس کی تنہائی کو ختم کرنے کے سلسلے میں ہے اور فلسطینی اتھارٹی کی زندگی کو دوام دینے کی کوشش ہے جس کا فلسطینی عوام سے کوئی تعلق نہیں علاوہ اس کے کہ اس کو کچھ ڈالر جو ان کو خرچ کرنے کے لئے دوسرے ممالک سے بھیک میں مل جاتے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
