اسرائیلی جیل میں بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی اسیر ایمان الشراونے کی والدہ نے اپنے لخت جگر سے اظہار یکجہتی کے لئے غیر معینہ مدت تک بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔
الخلیل شہر میں موجود دھرنا کیمپ میں ایمان کے دو بھائی جہاد اور عبدالرحمان بھی سماجی کارکنوں اسماعیل اور مصعب کے ہمراہ بھوک ہڑتال کا آغاز کر چکے ہیں۔
فلسطینی اسیران کی انجمن کی الخلیل برانچ کے انچارج امجد النجر کا کہنا ہے کہ فلسطینی بھوک ہڑتالی قیدیوں کا مشن کامیابی کے قریب ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بھوک ہڑتالیوں کے حق میں مظاہروں اور ریلیوں کا اسرائیلی زندانوں پر اثر ہو رہا ہے۔ فلسطینی قیدیوں کو اس کے نتیجے میں اسرائیلی قید خانوں سے نجات حاصل ہو سکتی ہے۔
ایمان شراونے 1/7/2012 کو 140 دنوں کے لئے بھوک ہڑتال کی تھی اور اس کے بعد اسرائیلی حکام کے ان کو رہا کرنے کے وعدے سے پھرنے کے بعد انہوں نے دوبارہ 16/1/2013 سے بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔
شراونے کو وفا الاحرار معاہدے کے نتیجے میں رہا کر دینے کے بعد کچھ مہینوں بعد ہی دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ شراونے خاندان کے مطابق ایمان کو اتوار کے دن تیزی سے خرابی صحت کی وجہ سے بئر سبع کے سروکا ہسپتال میں لے جایا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
