فلسطینی اسیران کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم نے فلسطین، اردن، مصر اور ساری دنیا کی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سے مداخلت کرکے صہیونی عقوبت خانوں
میں قید اسیر ڈاکٹر امجد قبھا، چالیس سالہ، کی فوری رہائی کروانے کا مطالبہ کیا، امجد قبھا کو جنین کے علاقے برطعہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
فلسطینی اسیران امور کے مرکز احرار کے ڈائریکٹر فواد خفش کا کہنا تھا کہ اس وقت تمام فلسطینی ڈاکٹرز یونین کو اپنے ساتھیوں کو اسرائیلی عقوبت خانوں سے رہا کروانے کے لیے فوری مداخلت کرنا چاہیے۔ انہوں نے انجینئرز اور اساتذہ کی تنظیموں کو اپنے ہم وطنوں کی رہائی کے لیے کردار ادا کرنے کا کہا۔
مرکز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ امجد قبھا نے 2001ء میں شادی کی تھی۔ شادی کو ابھی نو ماہ ہی گزرے تھے کہ انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتاری کے بعد ان کی بیوی کے ہاں ایک بچی کی ولادت ہوئی۔ ان کی بیٹی نے دو سال کی عمر میں اپنے والد کو جیل میں دیکھا تھا تاہم جب سے اب تک وہ بھی اپنے والد کو دیکھ تک نہ سکی ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
