ارجنٹائن کے رضا کار نے اسرائیلی جیلوں میں قید بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی اسیران کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے ایک ماہ تک بھوک ہڑتال کرنے کا اعلان کر رکھا ہے، ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے فیصل سیرجیو ٹابیا انسانی حقوق کی عالمی اسلامی کمیٹی کے سفیر ہیں۔
انہوں نے حقوق انسانی و امور اسیران کے مطالعاتی مرکز’’احرار‘‘ سے گفتگو کی جس میں کہا کہ مجھے اپنے بچپن کے دنوں سے مسئلہ فلسطین میں دلچسپی ہے۔
انہوں نے مسئلہ فلسطین کی تاریخ پر حیرت کا اظہار کیا اور اس بات پر بڑے فخر کا اظہار کیا کہ ان کی پیدائش 30 مارچ کو ہوئی اور یہ دن فلسطینی ارتھ ڈے کے طور پر مناتے ہیں۔ مرکز احرار سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ جس گولی سے غزہ کے بچوں کو مارا جا رہا ہے انہیں گولیوں سے کولمبین قوم کا قتل عام بھی کیا جا رہا ہے۔
فیصل سیرجیو ٹابیا نے مزید کہ انہوں نے سال 2009ء کے اوائل میں اسرائیل کی غزہ پر خوفناک جارحیت اور جنگی جرائم کے خلاف قرار داد پیش کی تھی جس کا بعد کے حالات پر بڑا اثر مرتب ہوا۔
یکم مارچ سے بھوک ہڑتال جاری رکھنے والے انسانی حقوق کے رضا کار نے بتایا کہ صہیونی عقوبت خانوں میں اس وقت بھی 4700 فلسطینی قید ہیں جن میں 190 بچے بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بھوک ہڑتال علامتی نہیں بلکہ فلسطینی قیدیوں بالخصوص طویل بھوک ہڑتال کرنے والے اسیر سامر عیساوی کے ساتھ اخلاقی طور پر اظہار یک جہتی کا حقیقی مظاہرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ارجنٹائن لاطینی امریکا میں اسرائیلی ریاست شمار کیا جاتا ہے۔ اس ملک نے ابھی تک فلسطین کو تسلیم نہیں کیا اور یہاں پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے تربیتی مرکز پہلے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ اسرائیل کی کھلے عام مذمت کی جائے، اسرائیل کے حالیہ نظام نے اسرائیلی جیلوں میں 203 فلسطینی قیدیوں کو بہیمانہ تشدد اور بے سختیاں کرکے قتل کردیا گیا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی خاموشی کو توڑے اور انسانیت سوز مظالم پر اسرائیل کی کھل کر مذمت کرے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
