
ذرائع کا کہنا ہے کہ یاسر پر ٹی وی اور ریڈیو کے عہدوں کے دوران پانچ ملین ڈالرز کی بدعنوانی کا الزام عائد کیا گیا ہے اور انسداد کرپشن کمیٹی ان الزامات کی تحقیقات کررہی ہے۔ ذرائع نے "مرکزاطلاعات فلسطین” کو بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور یاسر عبد ربہ کے درمیان اختلافات دو ماہ قبل اس وقت پیدا ہوئے تھے جب صدر نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے نام ایک دے کر روانہ کرنے کے لیے یاسر عبد ربہ کا نام تجویز کیا تھا۔ اس پر یاسر عبد ربہ نے خط لے جانے سے انکار کردیا۔ ناراضگی کا سلسلہ اور آگے بڑھا تو ان کےخلاف کرپشن کی ایک فائل کھول دی گئی۔ کرپشن کے اس اسکینڈل میں بتایا گیا کہ یاسر عبد ربہ پانچ ملین ڈالرز کی بدعنوانی میں ملوث ہیں، جس کے بعد صدر نے ان سے ٹی وی اور ریڈیو کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ لے لیا تھا۔
فلسطینی اتھارٹی کے عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صدر محمود عباس کے پاس اتھارٹی کے کئی حاضر سروس اعلیٰ عہدیداروں کی کرپشن کی بھی مصدقہ شکایات موجود ہیں، تاہم اب یہ صدر کی مرضی پر منحصرہے کہ وہ کس کےخلاف تحقیقات کے لیے پراسیکیوٹر جنرل کو کارروائی کا حکم دیتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے عہدیداروں کی کرپشن کہانیاں جس تواتر کے ساتھ منظر عام پر آ رہی ہیں ان سے ایسے لگتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے تمام عہدیدار کرپشن میں ملوث ہیں تاہم کارروائی صرف اس عہدیدارکے خلاف کی جاتی ہے جو فلسطینی صدر محمود عباس کی پالیسیوں سے اختلاف کی جسارت کر بیٹھتا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
